(سنن ابی داود،کتاب الطلاق،باب کراھیۃ الطلاق،الحدیث ۲۱۷۸،ج۲،ص۳۷۰)
نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہوجاتی ہے اس پابندی کے اٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں۔
(ماخوذازبہار شریعت،حصہ۸،ص۵)
اللہ تعالیٰ نے بندوں کیلئے ضرورت کی بنا پر طلاق مباح تو کر دی ہے مگر رب تعالیٰ کو پسند نہیں کہ اس میں دو محبوبوں کی جدائی گھر بگڑنا اولاد کی تباہی ہے غرضکہ بلا وجہ طلاق کراہت سے خالی نہیں،بہت سی چیزیں حلال ہیں مگر بہتر نہیں جیسے بلا عذر مرد کا گھر میں نماز پڑھ لینا وغیرہ۔
(مراٰۃ المناجیح، ج ۵،ص۱۱۲)
مسئلہ: طلاق(باعتبار حکم و نتیجہ)تین قسم ہے۔(1)رجعی (2)بائن ( 3)مغلظہ
( 1)رجعی:وہ جس سے عورت فی الحال نکاح سے نہیں نکلتی،عدت کے اندر شوہر