Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
8 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
دعاء مانگیں گے تو قَبول ہوگی )۔اِس ''ادب'' کے حاشِیہ میں سرکارِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اولیاء عُلماء کے بارے میں فرماتے ہیں،رب عَزَّوَجَلَّ صحیح حدیثِ قُدسی میں فرماتا ہے ،
ھُمُ القَوْمُ لَا یَشْقِیْ بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ۔
یعنی ''یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بد بَخت نہیں رَہتا۔''
(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
 یَک   زمانہ   صُحبتِ    با    اولیاء    بِہتراز صدسالہ طاعت بے ریا

(یعنی اولیا ئے کِرام کی لمحہ بھر صُحبت )    (سوسال کی خالص عبادت سے بِہتر ہے)

    ولی خواہ حیاتِ ظاہِری کے ساتھ مُتَّصِف ہویا مزار شریف میں تشریف فرماہواُس کا قُرب قَبولیّتِ دُعا ء کا سبب ہے ۔کروڑوں شافِعِیوں کے پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امامِ شافِعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ، مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے ، دورَکَعْت نَماز ادا کرکے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزارِ پُر انوار پر جاکر دعاء مانگتا ہوں،اللہ عَزَّوَجَلَّ میری حاجت پوری کردیتا ہے۔
(الخیرات الحِسان ص ۲۳۰ ،مدینہ پبلشنگ کراچی)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت
معلوم ہوا مزاراتِ اولیاء
رَحِمَھُمُ اللہُ تعالیٰ
پر بھی دعائیں قَبول ہوتیں،التجائیں سُنی جاتیں اور مُرادیں بَر آتی ہیں چُنانچِہ سرکارِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب 21 برس کے نوجوان تھے اُس وَقْت کا واقِعہ خود اُن ہی کی زَبانی ملاحَظہ ہو ، چُنانچِہ فرماتے
Flag Counter