Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
37 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک بار دُرُود ِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
اِس کے بعد بآوازِ بلند
لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للہُ  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
پڑھتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ جی ہاں جو مسلمان حادِثہ میں فوت ہو وہ شَہْید ہے۔ اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلّٰی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
نَمازَ فجر کیلئے جگانا سنّت ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ واقِعہ ان دنوں مختلف اخبارات نے شائع کیا تھا۔
اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
شَہْیدِدعوتِ اسلامی محمدمُنیر حسین عطاری علیہ رحمۃُاللہِ الْبَاری دعوتِ اسلامی کے ذِمّہ دارمُبلِّغ تھے اور حادِثہ کے ایک روز قَبل ہی عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے کے ساتھ سفر کرکے لوٹے تھے ۔ مرحوم روزانہ صدائے مدینہ بھی لگاتے تھے ۔ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں نمازِ فجر کے لئے مسلمانوں کو جگانا '' صدائے مدینہ لگانا'' کہلاتا ہے۔
اَلْحمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
بے شمار خوش نصیب اسلامی بھائی یہ سنّت ادا کرتے ہیں ۔ جی ہاں نمازِ فجر کے لئے مسلمانوں کو جگانا سنّت ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو بَکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو کہ بنی ثَقیف کے ایک صَحابی ہیں)فرماتے ہیں، میں سرکارِ مدینہ صلی اللہ
Flag Counter