Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
100 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
نہیں ، تو نے اپنے دین سے وَفا نہیں کی تو کسی اور کے ساتھ کیا وفا کریگا! بد بخْت! تُو نے شَہْوت سے بد مست ہو کر عمر بھر کی عبادت و ریاضَت بلکہ اپنا دین تک داؤ پر لگایادیا! لے سُن! تُو اسلام سے پھر کر مُرتَدّ ہو چُکا ہے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ میں عیسائیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو چکی ہوں ۔ یہ کہہ کر اُس نے سُورَۃُالْاِخْلاص کی تِلاوت کی ، کسی سننے والے نے حیرت سے پوچھا، یہ تجھے کیسے یاد ہو گئی؟کہنے لگی، دراَصل بات یہ ہے کہ خواب کے اندر میں جہنَّم میں داخِل ہونے لگی، اچانک ایک صاحِب وہاں آ گئے اور مجھے تسلّی دیتے ہوئے کہنے لگے ، ڈرو مت،تمہاری جگہ اُسی شخص کو فِدیَہ بنا دیا گیا ہے۔ اتنے میں یہ عاشقِ ناشادو نامُراد میری جگہ جہنَّم میں جانے کیلئے آگیا۔ پھر وہ صاحِب مجھے جنّت میں لے گئے وہاں میں نے یہ لکھا ہوا دیکھا،
یَمْحُوا اللہُ مَا یَشَآءُ وَیُثْبِتُ ۚۖ وَعِنۡدَہٗۤ اُمُّ الْکِتٰبِ ﴿۳۹﴾
(پ ۱۳ الرَّعد ۳۹)
ترجَمَہ کنزالایمان: اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابِت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اُسی کے پاس ہے۔

     پھر اُنہوں نے مجھے سُورَۃُالْاِخْلاص یاد کروائی ، جب میں بیدار ہوئی تو یہ مجھے یاد ہو چکی تھی۔

    حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا، وہ خوش نصیب لڑکی تو مسلمان ہو گئی لیکن بد نصیب عابِد شَہْوت سے مَغلُوب ہو کر مُرتَدّ ہونے کے بعد آج
Flag Counter