Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
97 - 102
جائے گی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا،دُنیاوی مال ودولت کی لالچ سے پیچھا چھوٹ جائے گا اور نیکیوں کی حِرْص ملے گی، الغرض بار بار راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرنے والے کی زندگی میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہوجائے گا۔ان شآ اللہ عَزَّوَجَلَّ
میں فنکار تھا!
    شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ''فیضانِ سنّت ''جلد اول کے صفحہ851 پر لکھتے ہیں:

     میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو! آئیے !گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ایک فنکار کا واقِعہ پڑھئے جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے مَدَنی رنگ چڑھا دیا۔ چُنانچِہاورنگی ٹاؤن ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: افسوس صد کروڑ افسوس! میں ایک فنکار تھا، میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کرتے ہوئے زندگی کے انمول اوقات برباد ہوئے جارہے تھے، قلب ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ نَماز کی توفیق تھی نہ ہی گناہوں کا احساس ۔ صحرائے مدینہ ٹُول پلازہ سُپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی میں بابُ الاسلام سطح پر ہونے والے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع (۱۴۲۴؁ھ۔ 2003 ) میں حاضِری کیلئے ایک ذِمّہ دار اسلامی بھائی نے انفِرادی کوشِش کر کے ترغیب دلائی۔ زہے نصیب! اُس میں شرکت کی سعادت مل گئی۔تین روزہ اجتِماع کے اختتام پر رقّت انگیز دُعا میں مجھے اپنے گناہوں پر بَہُت زیادہ نَدامت ہوئی ، میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ، پھوٹ پھوٹ کر رویا، بس رونے نے کام دکھادیا! اَلْحَمْدُ
Flag Counter