میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے مَدَنی اِنعامات سے پیار ہے اور روزانہ فکرِ مدینہ کرنے کا میرا معمول ہے۔ ایک بار میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ صوبۂ بلوچستان ( پاکستان ) کے سفر پر تھا۔ اِسی دَوران مجھ گنہگار پر بابِ کرم کُھل گیا ۔ ہوا یوں کہ رات کو جب سویا تو قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مَآب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خواب میں تشریف لے آئے،ابھی جلووں میں گُم تھا کہ لب ہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحمت کے پھول جھڑنے لگے، الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: جو مَدَنی قافِلے میں روزانہ فکرِ مدینہ کرتے ہیں میں انہیں اپنے ساتھ جنّت میں لے جاؤں گا ۔''