Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
183 - 479
سلیمان بن عبد الملک (بنو امیّہ کی حکومت کے ایک خلیفہ) کے پاس ریشم کا ایک ٹکڑا لایا۔ تو ان کے پاس امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی  موجود تھے۔جو اس وقت بڑے صحت منداوربھاری بھرکم تھے۔ پھر میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلافت ملنے کے ایک سال بعد آپکی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیں نمازِ ظہر پڑھانے اپنے کاشانۂ اقدس سے باہر تشریف لائے، تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک بدن پر (شاہی لباس کے بجائے)کم و بیش ایک دینار کا معمولی کُرتا اور ایک رومال ہے اور سرِانور پر عمامہ شریف ہے جسکا شملہ آپ نے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رکھا ہے اور بارِ خلافت کے سبب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کمزور اور لا غر ہو چکے تھے۔ (طبقات ابن سعد ،عمر بن عبدالعزیز،۵/۳۱۴)
آئمہ و محدثینِ کرام کے عمامے 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کی سنّت ہے اور آئمہ و محدثینِ کرام ان کے سچے پیروکار تھے اس لئے یہ حضراتِ ذی وقار بھی عمامہ مبارک کی سنّت کو حرزِ جاں بنائے رکھتے (بہت عزیز رکھتے ) تھے ، ان ہی آئمہ و محدثین میں سے چند کے مبارک عماموں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے چنانچہ