Brailvi Books

ڈانسر بن گیا نعت خواں
23 - 32
 میرے لیے صبح بہاراں بن کر آئی کہ جب ایک اسلامی بھائی نے مجھے اجتماع ذکر و نعت کی دعوت دی جسے میں ٹھکرا نہ سکا۔ اجتماع قبرستان کے قریب کشادہ جگہ میں تھا۔ میں بھی اجتماع کے وسط میں جا پہنچا۔ بیان جاری تھا اور اجتماع گاہ پر ہو کا عالم تھا۔ بیان ایسا رُلا دینے والا کہ میں نے پہلے کبھی نہ سنا۔ جس کا نام ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘ تھا۔ بیان سن کر میں تھرا اٹھا میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے  گناہوں سے تعلق توڑا (توبہ کی)، نیکیوں سے رشتہ جوڑا، داڑھی منڈانا چھوڑا اور دعوتِ اسلامی سے ناطہ جوڑا۔ بیان میں موت اور قبروحشر کی جو منظر کشی کی گئی تھی میرے دل و دماغ پر اسی کاراج تھا ۔ اجتماع کے بعد میں نے مکتبہ المدینہ سے امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے بیان کی کیسٹ ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘ خریدی اور گھر آ کر ایک بار پھر سنی۔ جس کی برکت سے میں نے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کی پکی نیت کرلی اور ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے لگا۔ کچھ عرصہ بعد مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کا بین الاقوامی سنّتوں بھرا اجتماع ہونے والا تھا۔ میں نے دوکان کے مالک سے اجازت لی اور ملتان کا ٹکٹ لے کر اسلامی بھائیوں کے ہمراہ ایک دن قبل ہی اجتماع گاہ پہنچ گیا۔ میں اتنا بڑا اجتماع دیکھ کر ششدر رہ گیا، چونکہ اس سے قبل میں نے اتنا بڑا کوئی دینی اجتماع نہ دیکھا تھا کہ جس طرف