جہاں تاریک تھا، بے نور تھا اور سخت کالا تھا
کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھر گھر میں اجالا تھا
(سیرت مصطفیٰ،ص۴۳۸ تا ۴۴۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بُغْض وعناد محبت میں بدل گیا
ہمارے مدنی سرکار مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کردار وعمل کی بلندیاں دیکھ کر آپ کے دشمن بھی بالآخر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے حد درجہ محبت کرنے لگتے تھے ، اس کی تین جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:
{1}حضرت ثمامہ بن اُثال یمامی رضی اللہ تعالٰی عنہجو اہل یمامہ کے سردار تھے ایمان لاکر کہنے لگے: ’’ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ آج وہی چہرہ مجھے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرے نزدیک کوئی دین آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دین سے زیادہ بُرانہ تھااب وہی دین میرے نزدیک سب دینوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم میرے نزدیک کوئی شہر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے شہر سے زیادہ مَبْغُوض نہ تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اب وہی شہر میرے نزدیک سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب وفد بنی حنیفۃ،۳/۱۳۱،الحدیث۴۳۷۲)