میں تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں
سرکارِ دو عالم،نُورِ مجَسَّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکافرمانِ اُلفت نشان ہے:لَا یُبْلِغْنِیْ اَحَدٌ مِّنْ اَصْحَابِیْ عَنْ اَحَدٍ شَیْئًا، فَاِنِّی اُحِبُّ اَنْ اَخْرُجَ اِلَیْکُمْ وَاَنَا سَلِیْمُ الصَّدْرِیعنی مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۔
(سُنَنِ ابی داوٗد،کتاب الادب،۴/۳۴۸،الحدیث ۴۸۶۰)
مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی حدیثِ پاک کے اس حصّے ’’مجھے کوئی صَحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے‘‘کی وَضاحت کرتے ہوئے فر ما تے ہیں :’’یعنی کسی کی کوتاہی ،فعلِ بد، عادتِ بد،اُس نے یہ کیا یا اُس نے یہ کہا ، فُلاں اس طرح کہہ رہا تھا ۔‘‘(اشعۃ اللّمعات،۴/۸۳ ) حدیث شریف کے اس حصّے’’میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں :یعنی کسی کی عداوت، کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیانِ قانون ہے کہ اپنے سینے(مسلمانوں کے کینے سے) صاف رکھو تاکہ ان میں مدینے کے انوار دیکھو ، ورنہحُضُور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا سینۂ رحمت، نورِ کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کَدُورَت(یعنی بُغُض و کینے) کی پہنچ ہی نہیں ۔ (مراٰ ۃ المناجیح ،۶/۴۷۲)