کرے۔ (سُنَنِ تِرمِذی،کتاب المناقب،۵/۴۶۳،الحدیث:۳۸۸۸)
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادی فرماتے ہیں :مسلمان کو چاہیے کہ صَحابۂ کِرام (علیہم الرضوان )کا نہایت ادب رکھے اور دل میں ان کی عقیدت ومَحَبَّت کو جگہ دے۔ ان کی مَحَبَّت حُضُور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی مَحَبَّت ہے اور جو بد نصیب صَحابہ(علیہم الرضوان ) کی شان میں بے ادَبی کے ساتھ زَبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے۔مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔(سوانح کربلا ص ۳۱)میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :
اہلسنّت کا ہے بَیڑا پار اَصحابِ حُضُور
نَجم ہیں اور ناؤ ہے عِترَت رسولُ اللہ کی
(حدائق بخش ص۱۵۳)
(یعنی اہلسنَّت کا بیڑا پار ہے کیوں کہ صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوانان کیلئے ستاروں کی مانند اور اہلبیت اَطہارعَلَیْہِمُ الرِّضْوانکشتی کی طرح ہیں )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بُغض و عداوت رکھنے والے کا بھیانک انجام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بُغض و عداوت رکھنا دارَین(یعنی دُنیا و آخِرت) میں نقصان و خُسران کا سبب ہے چُنانچِہ حضر ت سیِّدُ نا نو رُ الدّین عبد الرحمٰن جا می قُدِّسَ سرُّہُ السّامی اپنی مشہو ر کتاب شَوا ہِدُ النُّبُوَّ ۃ میں