اس زمانے میں کوئی تجھ سا نہ دیکھا نہ سُنا غوثِ اعظم کی کرامت تھی سراپا تیرا
ہر جگہ مَنظرِ اسلام نظر آتا ہے تیرا گھر کوچہ و بازار محلہ تیرا
آج تک بھی ترے شاگردکے شاگردوں سے قصرِ باطل میں بلند ہوتا ہے نعرہ تیرا
مسلک حق کی ضمانت ہے ترا نام رضا شانِ تحقیق ادا کر گیا خامہ تیرا
تیری ہر بات ہے آئینہ حق و باطل تیرے ہر کام میں ہے رنگ نرالا تیرا
فاضل ایسا کہ دیا رب نے تجھے فضلِ کثیر عالِم ایسا کہ ہر عالِم ہوا شیدا تیرا
ہر وَرَق تیرا شریعت کی دلیلِ روشن ایک قانونِ مکمل ہے فَتاویٰ تیرا
تیری تحریرپہ انگشت بدنداں تھاعرب تیری تقریر تھی کہ قادری تیغا تیرا
ترجمہ وہ کیا قرآن کا کنزالایماں حشر تک جاری یہ فیضان رہے گا تیرا
تو نے عنوان یہ ایمان کا دنیا کو دیا عشقِ سرکارِ دوعالَم تھا وظیفہ تیرا
میں رضا کار رہا تیرا سفر ہو کہ حَضر نام ہر بار میں لیتا رہا آقا تیرا
کار نامہ تری تجدید کا اللّٰہ اللّٰہ مسلکِ اہلِ سُنَن بن گیا رستہ تیرا
تو نے ایمان دیاتو نے جماعت دیدی اہلسنت پہ ہے احسان یہ آقا تیرا