Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
20 - 20
منبقتِ اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
تُو نے باطِل کو مٹایا اے امام احمدرضا			دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمدرضا
دَورِ باطل اورضَلالت ہِند میں تھا جس گھڑی 		تُو مجدّد بن کے آیا اے امام احمدرضا
اہلسنّت کا چمن سر سبز تھا شاداب تھا			اَور رنگ تم نے چڑھایا اے امام احمدرضا
تُونے باطِل کو مِٹا کر دین کو بخشی جِلا 			سنَّتوں کو پِھر جِلایا اے امام احمدرضا
اے امامِ اہلسنّت! نائبِ شاہِ اُمَم!				کیجئے ہم پر بھی سایہ اے امام احمدرضاِ
علم کا چشمہ ہُوا ہے مَوج زَن تحریر میں 			جب قلم تُو نے اُٹھایا اے امام احمدرضا
حَشر تک جاری رہے گا فیض کیوں کہ تم نے ہے		فیض کا دریا بہایا اے امام احمدرضا
ہے بدرگاہِ خدا عطارِؔ عاجِز کی دُعا
تُم پہ ہو رَحمت کا سایہ اے امام احمدرضا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب
 
۸ ۱صفر المظفر ۱۴۲۷ھ
19-03-2006