ہے اسی لئے جب مسلمانوں پر وباؤں یا بلاؤں یا خطرناک بیماریوں یا مصیبتوں کا حملہ ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ صدقہ کریں تاکہ غضب الٰہی کے قہر سے محفوظ رہیں اور خدا عزوجل کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہو۔
(۲)حدیث نمبر ۳ کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کسی بھوکے انسان یا کسی بھوکے پیاسے جانورکوکھلاپلاکرسیراب کردینایہ بہترین قسم کاصدقہ ہے اورحدیث نمبر ۴میں بھی اسی مضمون کا بیان ہے کہ ایک زنا کار بدکار عورت کی مغفرت محض اتنی سی بات پر ہوگئی کہ اُس نے ایک کتے کی پیاس پر رحم کھایا اور اپنے چمڑے کے موزے کو اپنے دوپٹے میں باندھ کراس میں کنویں سے پانی بھرکرپیاسے کتے کوپِلاکرسیراب کردیاان دونوں حدیثوں کاحاصل یہی ہے کہ انسان اورجانوردونوں کوکھلاکرسیراب کردینابڑے ثواب کاکام ہے۔ اسی طرح حدیث نمبر۵ میں کنواں کھودنے کے ثواب کا بیان ہے کہ چرندو پرند انسان و چوپائے جو بھی اس کنویں میں سے پانی پئیں گے ان سب کا ثواب کنواں والے کو ملے گا۔
(۳)حدیث نمبر ۶کا حاصل یہ ہے کہ تکلیفوں یعنی سخت سردی وغیرہ میں وضو کرنا اور اندھیری راتوں میں مسجدجاکرنمازپڑھنااورکسی بھوکے کوپیٹ بھرکرکھاناکھلادینایہ تینوں عمل اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں کہ ان اعمال کے کرنے والے کو میدان قیامت کی سخت دھوپ میں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے نیچے سائے میں رکھے گاجس دن کہ کہیں اس کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔
(۴)حدیث نمبر ۷ میں درخت لگانے اور کھیت بونے کے ثواب کا بیان ہے کہ کھیت کا دانہ اوردرخت کاپھل جوچرندوپرندیاانسان کھالے گاوہ سب صدقہ ہوگااورکھیت بونے والے اور درخت لگانے والے کو اس کا ثواب ملے گا اگرچہ کھیت اور درخت والے کی