Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
63 - 243
تشریحات و فوائد
 (۱) اِس عنوان کی حدیث نمبر۱ میں ارشاد فرمایاگیاکہ''جو سات برس ثواب طلب کرنے کی نیت سے اذان دے۔'' اس سے معلوم ہوا کہ جو تنخواہ لینے کی نیت سے اذان پکارے اگرچہ اس کا تنخواہ لینا جائز ہے مگر اس کو یہ فضیلت نہیں حاصل ہوگی کہ اس کو جہنم سے نجات کا پروانہ مل جائے یہ فضیلت تو بس اُسی مؤذن کو حاصل ہوگی جو صرف ثواب کی نیت سے سات برس اذان پڑھے۔

(۲) حدیث نمبر۳ میں جو آیاہے کہ قیامت کے دن تمام لوگوں سے زیادہ مؤذنوں کی گردن لمبی ہوگی اس سے مراد ان کے درجات و مراتب کا بلند ہونا ہے کیونکہ جس کا درجہ بلند ہوتا ہے وہ گردن اونچی کرکے چلتا ہے۔

(۳) حدیث نمبر ۷
''حَلَّتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ''
کہ میری شفاعت اُس کے لئے حلال ہوگئی اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہوگاکیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شفاعت اُسی کے لئے حلال ہوگی جس کا خاتمہ ایمان پرہوا ہوگا۔ کافر کی شفاعت تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے جائز اور حلال ہی نہیں۔
اذان کے دُنیاوی فوائد
    جنت میں داخل ہونے کے سوا اذان کے دُنیاوی فوائد بھی بہت ہیں مثلاً:

(۱) اذان کی آوازسے شیطان اِتنی دوربھاگ جاتاہے کہ جہاں اذان کی آواز نہ پہنچے

(۲) آگ لگ جائے تواذان پڑھنے سے آگ کا زورکم ہوجاتاہے اور آگ بجھنے لگتی ہے

(۳) سخت آندھی کا طوفان اذان پڑھنے سے بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔

(۴) بارش اگر نقصان دہ ہونے لگے یا سیلابوں سے ہلاکت کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو
Flag Counter