Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
41 - 243
ایک چور، ایک زانیہ، ایک مالدار کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ حالانکہ ہر رات میں اپنا صدقہ اُن سبھوں کو مسکین سمجھ کر دیتا رہا اسی افسوس میں رنجیدہ ہو کر یہ شخص سو گیا۔ تو خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ نے آکر یہ کہا کہ تو نے چور کے ہاتھ میں صدقہ دے دیا تو شاید وہ چوری سے بچ جائے اور توبہ کرلے اور تیرا صدقہ زانیہ کو مل گیا تو شاید وہ زنا کاری سے بچ جائے اور توبہ کرلے اور تو نے مالدار کے ہاتھ میں صدقہ دے دیا تو شاید وہ عبرت حاصل کرے اور خود بھی اپنا مال خدا عزوجل کی راہ میں خرچ کرنے لگے۔(1)

                     			(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۵)

    مطلب یہ ہے کہ چور اور زانیہ اور مالدار کو صدقہ دیا گیا یہ اچھا نہیں ہوا مگر چونکہ لاعلمی میں ہوا اور صدقہ دینے والے کی نیت اچھی تھی اس لئے تینوں راتوں کا صدقہ مقبول ہو گیا۔کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
''اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ''
یعنی عمل کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

    لہٰذا یہ بڑی اہم بات ہے کہ مؤمن کو چاہے کہ عمل کرنے سے پہلے اپنی نیت کو درست کرلے کہ ہر نیک عمل کرنے میں یہی نیت رکھے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے خوش ہوجائے ہر گز ہرگز نام و نمود اور عزت وشہرت وغیرہ کی نیت دل میں نہ لائے ورنہ عمل صالح کرنے کے باوجود کوئی اجرو ثواب نہیں ملے گا۔
بغیر عمل کے فقط نیت پر ثواب
شریعت میں مؤمن کی اچھی نیت کی اس قدر اہمیت ہے کہ اچھی نیت پر بِلا عمل کے بھی ثواب مل جاتا ہے،چنانچہ ایک حدیث پڑھئے جو بڑی ہی نصیحت آموز و عبرت آمیز ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب اذاتصدق...الخ،الحدیث:۱۴۲۱،ج۱،ص۴۷۹
Flag Counter