| بہشت کی کنجیاں |
بہرحال کلمہ اسلام پر ایمان رکھنے والا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں نہیں رہ سکتا بلکہ وہ کبھی نہ کبھی ضرورجنت میں جائے گااس لئے کہ کلمہ اسلام جنت کی کنجیوں میں سب سے اعلیٰ درجے کی کنجی بلکہ جنت کی تمام کنجیوں کادارومدارہے اورجنت میں پہنچانے والی سڑکوں میں یہ سب سے بڑی سڑک بلکہ شاہراہ ہے۔ (۵)حدیث نمبر۶ میں اعمال صالحہ کی اہمیت ظاہر کی گئی ہے کہ
تو جنت کی کنجی ہے اور اعمال صالحہ اِس کنجی کے دندانے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کلمہ کا پڑھنے والا اگر نیک اعمال بھی کرتا ہے جب تو وہ ابتدا ہی سے جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ جنت ہی میں رہے گااور اگر کوئی عاقل و بالغ کلمہ پڑھ لینے کے بعد فسق و فجور اور طرح طرح کے گناہوں کامرتکب رہا(اور پکڑ ہوگئی)تووہ ابتدا ہی سے جنت میں نہیں داخل ہوگابلکہ اپنے گناہوں کے برابرجہنم میں عذاب پاکرجنت میں جائے گا اس لئے جو شخص عذاب جہنم سے بالکل بچ کر شروع ہی سے جنت میں جانے کا طلبگار ہے تو اس کو نیک اعمال کے کرنے کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ دوزخ سے بالکل ہی بچ کر ابتدا ہی سے جنت میں چلا جانا یہی مؤمن کی حقیقی کامیابی اور فلاح ہے۔
قرآن مجید کا ارشاد ہے کہفَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ (1)
یعنی جوجہنم سے الگ رکھاگیااورجنت میں داخل کردیاگیاوہ یقیناکامیاب ہوگیا۔ یادرکھوکہ حقیقی کامیابی اورفلاح بغیراعمالِ صالحہ کے حاصل نہیں ہوتی لہٰذاجنت میں لے جانے والے اعمال پر جذبہ ایمانی اور جوشِ اسلامی کے ساتھ کاربند ہو کر حقیقی فلاح کے مستحق بنو۔مولیٰ تعالیٰ ہرمسلمان مردوعورت کو اعمالِ صالحہ کی توفیق بخشے۔ (آمین)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان: جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہونچا۔ (پ۴،آل عمرٰن:۱۸۵)