(۳)اگر کوئی شخص زبان سے کلمہ پڑھ لے مگر دل میں اس کلمہ کے معنی اور مضمون پر اعتقادویقین نہ رکھے تو وہ بھی ہر گز ہرگز مسلمان اور جنتی نہیں ہوسکتاکیونکہ حدیث نمبر۲ میں ''وھو یعلم'' کا لفظ آیا ہے۔ جس کا واضح طور پر یہی مطلب ہے کہ اس کلمہ پر قلبی اعتقاد اور دل سے یقین رکھتے ہوئے جو اس کلمہ کو پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(۴)اوپر ذکر کی ہوئی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کلمہ اسلام کو دل سے سچا مان کر پڑھنے والا یقیناً ضرور جنت میں جائے گا، اب اس کی چند صورتیں ہیں:
(۱) نابالغ مگر ہوش مند لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا اور بالغ ہونے سے پہلے ہی مرگیا یا بالغ نے یہ کلمہ پڑھا اور فوراً ہی پاگل ہوگیا اور اِسی حالت میں مرگیایا کلمہ پڑھتے ہی فوراً اُس کا انتقال ہوگیا اور نہ کوئی نیک کام کرسکا نہ کوئی گناہ کرسکا تو یہ سب فقط ایک کلمہ اسلام پر ایمان لانے کے سبب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہوں گے۔
(۲)یہ کہ کسی نے کلمہ اسلام پڑھ کرعمربھرنیکی ہی کے اعمال کئے اورکوئی گناہ کاکام اس نے کیاہی نہیں۔تویہ شخص بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں جائے گا۔
(۳)یہ کہ کسی شخص نے کلمہ پڑھ کر کچھ نیک اعمال بھی کئے اور کچھ گناہ کے کام بھی کر ڈالے مگر مرتے دم تک اس کلمہ پر قائم رہا۔ تو اگر اس شخص کو توبہ نصیب ہوگئی تو یہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں جائے گااور اگر یہ شخص توبہ نہ کرسکا تو پھر اس کا معاملہ خداوند کریم عزوجل کی مرضی پر ہے، اگر خداوند تعالیٰ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے اُس کے گناہوں کومعاف فرمادے گااوراس کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل فرمادیگا۔ اور اگرچاہے گا تو اس کے گناہوں کے لئے اُس کو جہنم میں عذاب دے کر پھر اُس کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردے گا۔