صالحین یعنی علمائے ملت و مشایخ کے ساتھ عقیدت و محبت اور اِن حضرات کی مخلصانہ خدمت دونوں جہاں میں خیر و برکت کا باعث اور قیامت کے لئے بہترین سامانِ آخرت ہے۔ آپ نے حدیث میں پڑھ لیا کہ ایک گھونٹ شربت یاپانی پلانے والے اور وضو کے لیے پانی دینے والے آدمی کو صالحین کی اتنی ہی سی خدمت کی بنا ء پر ایک نیک بندے کی شفاعت سے جنت مل گئی اور جہنم سے ہمیشہ کے لیے رہائی حاصل ہوگئی۔ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
شنیدم کہ در روز امید و بیم بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم
یعنی میں نے سُنا ہے کہ قیامت کے دن خداوندِ کریم بہت سے گناہگاروں کو نیکوں کی و جہ سے بخش دے گا۔ فقط ۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ وَھُوَحَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِہٖ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔
تمت بالخیر