Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
215 - 243
    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی سے بھی دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں پھر دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے گناہ ان دونوں کے الگ ہونے سے پہلے ہی بخش دیئے جاتے ہیں(یعنی گناہ صغیرہ) ۔

حدیث:۶
    عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی اَرْبَعًا قَبْلَ الْھَاجِرَۃِ فَکَاَنَّمَا صَلَّاھُنَّ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمَانِ اِذَا تَصَافَحَا لَمْ یَبْقَ بَیْنَھُمَا ذَنْبٌ اِلَّا سَقَطَ(1)
 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۰۳)

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو چار رکعت دوپہر سے پہلے پڑھے توگویا اس نے اِن رکعتوں کو شبِ قدر میں پڑھااور دو مسلمان جب مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے سب گناہ جھڑ جاتے ہیں کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا۔
تشریحات وفوائد
 (۱) مذکورہ بالا احادیث میں جہاں جہاں تمام گناہوں کے معاف ہونے کا ذکر ہے اس سے مرادصغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ توبغیرسچی توبہ اوربغیرحق والے سے معاف کرائے معاف نہیں ہوتے۔

(۲)حدیث نمبر ۲ سے معلوم ہوا کہ سلام ذریعہ محبت ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ بکثرت ایک دوسرے کو سلام کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ،الحدیث۴۶۹۴،ج۲، ص۱۷۱
Flag Counter