Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
211 - 243
(۴۶) لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنا
حدیث:
    عَنْ اَنَسٍ اِذَا اُوْقِفَ الْعِبَادُ نَادٰی مُنادٍ لِیَقُمْ مَنْ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ وَلْیَدْخُلِ الْجَنَّۃَ قِیْلَ مَنْ ذَا الَّذِیْ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ قَالَ اَلْعَافُوْنَ عَنِ النَّاسِ فَقَامَ کَذَا وَکَذَا اَلْفًا فَدَخَلُوا الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ(1)
 (کنز العمال،ج۳،ص۲۱۴)

    حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ(میدانِ محشر میں)جب تمام بندے (حساب کے لیے) کھڑے کیے جائیں گے تو ایک منادی یہ اعلان کریگا کہ جس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اس کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے تو کوئی کہنے والا کہے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ عزوجل کے ذمے ہے؟ تو منادی کہے گا کہ جو لوگوں کی خطاؤں کومعاف کرنے والے ہیں یہ سن کراتنے اتنے ہزارآدمی کھڑے ہوجائیں گے اور بِلا حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
تشریحات وفوائد
    مسلمانوں سے اگر کوئی غلطی اور خطا ہوجائے اور وہ معافی کے طلب گار ہوں یا نہ ہوں بہرحال ان کی خطاؤں کو معاف کردینا یہ بہت بڑا جنتی عمل ہے ۔قرآن مجید میں بھی
وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(2)
فرماکراللہ عزوجل نے ان لوگوں کی مدح فرمائی اور ان لوگوں کونیکو کار بتایا ہے۔ اور حدیث شریف میں آپ نے پڑھ لیا کہ ان لوگوں کے بارے میں میدانِ محشر کے اندر اللہ تعالیٰ کا منادی ان لفظوں میں اعلان فرمائے گا کہ وہ لوگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الباب الاول،الحدیث:۷۰۰۶،ج۲،الجزء۳، ص۱۵۱

2۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اورلوگوں سے درگزر کرنے والے۔(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۴)
Flag Counter