Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
210 - 243
ایذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمادیتا ہے۔

    آج کل کے مسلمان اس عمل صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں۔بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں۔ مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکاریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے لئے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں۔اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیز اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے اِن شاء اللہ تعالیٰ اگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
Flag Counter