Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
176 - 243
نے اس کی نمازجنازہ پڑھی، پھرارشاد فرمایاکہ کاش!یہ شخص اپنی جائے پیدائش کے غیر میں مرا ہوتا صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم یہ کس لیے؟ تو ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی جائے پیدائش کے غیر میں مرتاہے تو اس کی پیدائش کی جگہ سے اس کی وفات کی جگہ تک ناپ کر جنت میں جگہ دی جاتی ہے۔ اس حدیث کو نسائی و ابن ما جہ نے روایت کیا ہے۔
تشریحات و فوائد
 (۱) موت کو یاد کرنا جنت کے اعمال میں سے یوں ہے کہ آدمی جب ہر وقت اس کو یادرکھے گاکہ مجھے ایک دن مرناہے اورسارامال و سامان اورجائیدادومکان چھوڑکرخالی ہاتھ دنیا سے چلے جانا ہے تو اس کو دنیا سے بے رغبتی اورآخرت کے سامان جمع کرنے کی فکرہوجائے گی اورظاہرہے کہ دنیاسے بے رغبتی اور آخرت کی فکریہ دونو ں چیزیں ہر قسم کی نیکیوں کا سر چشمہ ہیں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا بہتر ین ذریعہ ہیں اس لیے موت کو بکثرت یاد کرنایہ جنت دلانے والے اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ اور جنت میں لے جانے والی ایک بڑی شاہراہ ہے۔
(۳۱)     بیمار پرسی
حدیث:۱

     حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے  فرمایا کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پُرسی کے لیے جاتا ہے تو وہ جب تک نہ لوٹ جائے برابر لگاتارجنت کے میوے چُنتارہتا ہے۔(1) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۳۳)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب البر...الخ،باب فضل عیادۃالمریض،الحدیث:۲۵۶۸، ص۱۳۸۹
Flag Counter