حدیث:۳
رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو تمہارے بہترین اعمال کی خبرنہ دوں جواعمال خداعزوجل کے نزدیک بڑے ستھرے اور تمہارے درجات کو بہت زیادہ بلند کرنے والے ہیں،وہ تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں اور وہ اِس سے بھی بہتر ہیں کہ تم اپنے دشمنوں (کفار)سے لڑو اور وہ تمہاری گردن ماریں اور تم اُن کی گردن مارو تو صحابہ نے کہا کہ کیوں نہیں آپ ضرور ہمیں اس عمل کی خبر دیجئے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عمل اللہ عزوجل کا ذکر ہے۔(1)
(مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۹۸)
حدیث:۴
رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں چکر لگاتے پھرتے ہیں اور اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ تو جب کسی قوم کو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہوئے پالیتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ آجاؤ اپنی مراد کے پاس۔ پھر یہ فرشتے اُن ذکر کرنے والوں کو ڈھانپ لیتے ہیں زمین سے آسمان دنیا تک پھر اللہ تعالیٰ باوجود یہ کہ وہ خوب جانتا ہے، اُن فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ لوگ تیری تسبیح پڑھتے ہیں اور تیری بڑائی بیان کرتے ہیں اور تیری تعریف اور بزرگی کا اعلان کرتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان بندوں نے مجھے دیکھا ہے؟ تو فرشتے کہتے ہیں کہ نہیں بخدا انہوں نے تجھ کو