| بہشت کی کنجیاں |
عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک نیک بندے کا درجہ جنت میں بلندفرمائے گاتووہ کہے گاکہ اے میرے رب!عزوجل کہاں سے یہ مرتبہ مجھ کوملا؟ تواللہ تعالیٰ فرمائے گاکہ تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعامانگی ہے اس لیے تجھے یہ درجہ ملا ہے۔
تشریحات و فوائد
(۱) اس عنوان کی پہلی حدیث میں جو
مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ
آیا ہے شارحین حدیث نے اس کی چند شرحیں تحریر کی ہیں۔ چنانچہ صاحب مرقاۃ نے حدیث مذکور کی شرح میں تحریر فرمایا کہ
اَیْ مَنْ اٰمَنَ بِھَا اَوْعَدَّھَا وَقَرَأَ ہَا کَلِمَۃً کَلِمَۃً عَلٰی طَرِیْقٍ التَّرْتِیْلِ تَبَرُّکًا وَّاِخْلَاصًا اَوْحَفِظَ مَبَانِیْھَا وَعَلِمَ مَعَانِیْہَا وَتَخَلَّقَ بِمَا فِیْھَا (1)
(مرقاۃ)
یعنی اَحْصَاھَا کے چند معانی ہوسکتے ہیں(۱) ان پر ایمان لایا(۲) گن کر پڑھا (۳) ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ برکت حاصل کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ پڑھا (۴)اس کے الفاظ کو یاد کرلیا اور اس کے معنی کے مطابق اپنے اخلاق کو سنوارا ۔واللہ تعالیٰ اعلم
(۲) حدیث نمبر ۲میں ذکر کے حلقوں کو جنت کا باغ اس لیے فرمایا کہ ذکر کے حلقے جنت کے باغات میں جانے کا سبب ہیں تو گویا جو ذکر کے حلقوں میں گیا وہ جنت کے باغات میں پہنچ گیا۔ (۳) حدیث نمبر ۵ سے معلوم ہوا کہ اولاد اگر اپنے ماں باپ کے لیے استغفار یا اور کسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مرقاۃ المفاتیح،کتاب الدعوات،باب اسماء اللہ تعالٰی،تحت الحدیث۲۲۸۷،ج۵، ص۷۱