| بہشت کی کنجیاں |
جہاد کا وسیلہ ہونے کے سبب سے یہ سب کام بھی عمل صالح اور عبادت بن گئے۔ چنانچہ حدیث نمبر ۱ میں جہاد کی نیت سے گھوڑا پالنے کا اجر آپ نے پڑھ لیا کہ وہ گھوڑا جتنا چارا کھائے گا جس قدر پانی پیئے گا جتنی لید اور پیشاب کریگا یہ سب گھوڑا پالنے والے کے میزانِ عمل میں نیکی بنا کر تو لے جائیں گے اسی طرح حدیث نمبر ۲و نمبر ۳ میں ایک تیر کا بنانا اس کو میدان جہاد تک پہچانا اس کو چلانا اس کا اجرو ثواب کتنا عظیم ہے اس کو آپ پڑھ چکے بہرحال سامانِ جہاد کی تیاری کے سلسلے میں ہر وہ چیز باعث اجرو ثواب ہے جس کا جہاد سے تعلق ہو۔
(۲۴) اللہ تعالیٰ کا ذکر
اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی بہت بڑی عبادت اور جنت کے اعمال میں سے ایک اعلیٰ درجے کا عمل ہے اس کے متعلق بھی چند حدیثیں تحریر کی جاتی ہیں۔ خدا عزوجل کرے کہ ان حدیثوں کے انوار سے مسلمانوں کے دلوں میں ہدایت کا نور چمک اُٹھے۔ حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِلّٰہ تَعَالٰی تِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ اِسْمًا مِائَۃً اِلَّا وَاحِدَۃً مَنْ اَحْصَاھَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ (1)
(بخاری ومسلم) (مشکوٰۃ،ج۱،ص)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ عزوجل کے ننانوے نام ہیں جو اِن کو گِن گِن کر اِخلاص کے ساتھ پڑھتا رہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الدعوات،باب اسماء اللہ تعالٰی،الحدیث۲۲۸۷،ج۱، ص۴۲۸