| بہشت کی کنجیاں |
اس کے بنانے میں خیر کی نیت کی ہو اور اس کے چلانے والے کو اور اس تیر کو اٹھا کر دینے والے کو، تم لوگ تیر اندازی کرو اور گھوڑوں پر سواری کرو اور تیر اندازی گھوڑے کی سواری کرنے سے زیادہ مجھے پسند ہے۔ حدیث:۳
عَنْ اَبِیْ نَجِیْحٍ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ بَلَغَ بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَھُوَ لَہٗ دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَمَنْ رَمٰی بِسَھْمٍ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَھُوَ لَہٗ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی الْاِسْلَامِ کَانَتْ لَہٗ نُوْرًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ رواہ البیہقی(1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۳۷)
حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ایک تیر کو جہاد میں پہنچادے تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے اور جو ایک تیر جہاد میں چلادے تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے اور جس کے بال اسلام میں سفید ہوگئے یہ سفید بال اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوں گے۔ اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا ہے۔تشریحات و فوائد
جہاد چونکہ اعلاء کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے اس لیے جہاد بہت بڑا عمل صالح اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے اور چونکہ سامانِ جہاد کی تیاری مثلاً میدانِ جہاد تک پہنچنے کے لیے سواریوں کا انتظام، آلاتِ جنگ مثلاً تیر و تلوار کا بنانا، خریدنا، تیر اندازی ، شمشیر زنی،بندوق چلانے کی مشق کرنا،چونکہ یہ سب سامانِ جہاد کی تیاری ہے۔ لہٰذا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الجھاد،باب اعدادآلۃ الجھاد،الحدیث:۳۸۷۳،ج۲، ص۳۷