کی مسجد نبوی میں بحا لتِ نماز فجر ابولولو فیروز مجوسی کافر نے خنجر مار کر شہید کردیا۔ اس طرح آپ کو شہادت بھی مل گئی اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں آپ کی وفات بھی ہوگئی۔آپ کی شہادت کاپوراواقعہ ہماری کتاب''دوحقانی تقریریں'' میں پڑھیے۔
(۵)حدیث نمبر ۵ سے معلوم ہوا کہ جو شخص جہاد کے لیے اپنے گھر سے نکل گیا۔ اب خواہ اس کو کسی طرح بھی موت آئے مگر بہرحال اس کو شہادت کا درجہ ملے گا۔
(۶)حدیث نمبر ۶کاحاصل یہ ہے کہ ان ساتوں کوشہیدفی سبیل اللہ کاثواب ملے گا اگرچہ خداعزوجل کی راہ میں سرکٹاکرشہیدہونے والے اوران لوگوں کے درجات ومراتب میں بڑافرق ہوگایہ اللہ تعالیٰ کافضل وکرم ہے کہ ان امراض وعوارض میں مرنے والوں کو بھی شہیدکاثواب ملے گا۔
(۷)حدیث نمبر۸سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو کس قدر جذبہ جہاد اور شہادت حاصل کرنے کا شوق تھا،اللہ اکبر!اللہ اکبر!اس حدیث کا مطلب حدیث نمبر ۳ کی تشریح میں گزر چکا ہے۔
(۸)حدیث نمبر ۹ سے پتا چلتا ہے کہ شہید کو جذبہ شہادت کی ایسی لذت ملتی ہے کہ بڑے سے بڑے زخم لگنے کی بس اُس کو اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ شہادت کی لذت کو بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ نہیں مل سکتا اس لذت کو تو بس وہی جان سکتا ہے جس کو یہ رُتبہ بلندمل جائے اور ہر ایک کوشہادت کا یہ بلند رتبہ کہاں ملتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ