جس کا ایک یا قوت دنیا اور اس کی تمام کائنات سے زیادہ بہتر اور قیمتی ہوگا اور بہتّربی بیاں اُس کو حوروں میں سے ملیں گی۔(۶) سترّرشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
تشریحات و فوائد
اس عنوان کے تحت دس حدیثیں اوران کے تراجم ہم تحریر کرچکے اور ان سب حدیثوں سے شہادت کے بلند درجات اور اس کی فضیلتوں کا حال نہایت ہی تفصیل و وضاحت کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے۔
(۱)حدیث نمبر ۱ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کافر نے کسی مسلمان کو شہید کردیا تو شہید سے اللہ تبارک وتعالیٰ خوش ہوکراس کوجنت عطافرمادے گاپھروہ کافرمسلمان ہوجائے اور وہ بھی کفار سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے تو اس سے بھی اللہ تعالیٰ خوش ہو کر اس کوجنت میں بھیج دے گا۔اس طرح قاتل و مقتول دونوں جنت میں گئے اوردونوں سے خداعزوجل خوش ہوگیا۔
(۲)حدیث نمبر ۲سے صاف صاف معلوم ہوا کہ شہیدکو جنت میں فردوسِ اعلیٰ کا محل عطا کیا جاتا ہے۔
(۳) حدیث نمبر ۳ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تلوار کے نیچے پڑ کر شہید ہوجانا یہ جنت میں جانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ توگویا جنت تلوار کے سائے کے نیچے ہے۔
(۴)حدیث نمبر ۴ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا کا ذکر ہے وہ ہمیشہ خلوص قلب کے ساتھ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اور بحمداللہ تعالیٰ ان کی دعا مقبول ہوگئی کہ اُن کو شہر مدینہ