| بہشت کی کنجیاں |
کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو۔یہ تمنا اس لیے کریگا کہ وہ جنت میں شہداء کی فضیلت دیکھ چکاہے تواس کویہ خواہش باربارہوگی کہ باربارشہیدکیاجاؤں تاکہ اورزیادہ اجرملے ۔ حدیث:۸
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْھَیْئَۃِ فَقَالَ یَا اَبَا مُوْسٰی اَنْتَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ھٰذَا قَالَ نَعَمْ فَرَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖ فَقَالَ اَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ ثُمَّ کَسَرَجَفْنَ سَیْفِہٖ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشٰی بِسَیْفِہٖ اِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِہٖ حَتّٰی قُتِلَ۔رواہ مسلم(1)
(مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۳۴)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یقینا جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ حال مرد کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ اے ابو موسیٰ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا آپ نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر وہ مرد اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو سلام کرتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام کو توڑ کر پھینک دیا پھر تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا اور تلوار چلاتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۹عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الجھاد،الفصل الثالث،الحدیث:۳۸۵۲،ج۲، ص۳۳