Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
100 - 243
اس کے روزہ کو فرض اور اس میں رات کے قیام کو نفل بنادیا ہے۔ جو اس مہینے میں نفل کی کسی خصلت کے ساتھ عبادت کرے تو وہ اس شخص کے مثل ہوگا جو اس کے سوا کسی مہینے میں فرض ادا کرے اور جو اس مہینے میں کوئی فرض ادا کریگاتو وہ اس شخص کے مثل ہوگا جو اس مہینے کے علاوہ میں ستر فرض ادا کرے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ غمخواری کرنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔جو اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرادے تو اس کی مغفرت ہوجائے گی اور اس کی گردن کو جہنم سے آزادی مل جائے گی اور اس کو اس روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں ہوگی۔ یہ سن کر ہم صحابیوں نے کہا کہ یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہم میں سے ہر شخص تو اتنا کھانا نہیں پاتا کہ ہم اس سے روزہ دار کو افطار کراسکیں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہی ثواب اُس شخص کو بھی دے گا جو کسی روزہ دار کو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجوریا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرادے گا اور جو کسی روزہ دار کو بھرپیٹ کھلادے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کو میرے حوض سے ایسا شربت پلائے گا کہ وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا ہوگا ہی نہیں اور یہ ایسا مہینہ ہے کہ اِس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور اس کادرمیانی حصہ مغفرت اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے جو اس مہینے میں اپنے غلام سے کام ہلکا لے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اُس کو جہنم سے آزاد کردے گا۔
شبِ قدر و عیدا لفطر
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جب شبِ قدر آتی ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام
Flag Counter