تنبیہ: زمانہ حال میں جو لوگ باوجود ادّعائے اسلام(1) کلماتِ کفر بکتے ہیں یا کفری عقائد رکھتے ہیں ان کے اقوال وافعال کا بیان حصّہ اول میں گزرا۔ یہاں چند دیگر کلماتِ کفر جو لوگوں سے صادرہوتے ہیں(2)بیان کیے جاتے ہیں تاکہ ان کا بھی علم حاصل ہو اور ایسی باتوں سے توبہ کی جائے اور اسلامی حدود کی محافظت کی جائے۔
مسئلہ۲۴: جس شخص کو اپنے ایمان میں شک ہو یعنی کہتاہے کہ مجھے اپنے مومن ہونے کا یقین نہیں یا کہتا ہے معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر وہ کافر ہے ۔ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافر نہیں۔ جو شخص ایمان و کفر کو ایک سمجھے یعنی کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے خدا کو سب پسند ہے وہ کافر ہے۔ یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کفر پر راضی ہے وہ بھی کافر ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ۲۵: ایک شخص گناہ کرتا ہے لوگوں نے اسے منع کیا تو کہنے لگا اسلام کا کام اسی طرح کرنا چاہیے یعنی جو گناہ و معصیت(4) کو اسلام کہتا ہے وہ کافر ہے۔ یوہیں کسی نے دوسرے سے کہا میں مسلمان ہوں اس نے جواب میں کہا تجھ پر بھی لعنت اور تیرے اسلام پر بھی لعنت، ایسا کہنے والا کافر ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ۲۶: اگر یہ کہا خدا مجھے اس کام کے لیے حکم دیتا جب بھی نہ کرتا تو کافر ہے۔ یوہیں ایک نے دوسرے سے کہا میں اور تم خدا کے حکم کے موافق کام کریں دوسرے نے کہا میں خدا کا حکم نہیں جانتا یا کہا یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۲۷: کوئی شخص بیمار نہیں ہوتا یا بہت بوڑھا ہے مرتا نہیں اس کے لیے یہ کہنا کہ اسے اﷲ میاں بھول گئے ہیں یا کسی زبان دراز آدمی(7)سے یہ کہنا کہ خدا تمھاری زبان کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا میں کس طرح کروں یہ کفر ہے۔ (8)(خلاصۃ الفتاویٰ) ۔ یوہیں ایک نے دوسرے سے کہا اپنی عورت کو قابو میں نہیں رکھتا، اس نے کہا عورتوں پر خدا کو تو قدرت ہے نہیں، مجھ کو کہاں سے ہوگی۔