مسئلہ ۱۲: گواہوں نے جب بیان کیا، اس نے شراب پی اور کسی نے مجبور نہ کیا تھا تو اس کا یہ کہنا کہ مجھے مجبور کیا گیا، سُنا نہ جائیگا۔ (1)(بحر)
مسئلہ ۱۳: گواہوں میں اگر باہم اختلاف ہوا ایک صبح کا وقت بتاتا ہے دوسرا شام کا یا ایک نے کہا شراب پی دوسرا کہتا ہے شراب کی قے کی یا ایک پینے کی گواہی دیتا ہے اور دوسرا اس کی کہ میرے سامنے اقرار کیاہے تو ثبوت نہ ہوا اور حد قائم نہ ہوگی۔ (2)(درمختار) مگر ان سب صورتوں میں سزا دینگے۔
مسئلہ ۱۴: اگر خود اقرار کرتا ہو تو ایک بار اقرار کافی ہے حد قائم کردیں گے جبکہ اقرار ہوش میں کرتا ہو اور نشہ میں اقرار کیا تو کافی نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: کسی فاسق کے گھر میں شراب پائی گئی یا چند شخص اکٹھے ہیں اور وہاں شراب بھی رکھی ہے اور اون کی مجلس اوس قسم کی ہے جیسے شراب پینے والے شراب پینے بیٹھا کرتے ہیں اگرچہ اُنھیں پیتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تو ان پر حد نہیں مگر سب کو سزا دیجائے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اس کی حدمیں اَسی ۸۰ کوڑے مارے جائیں گے اور غلام کو چالیس ۴۰ اور بدن کے متفرق (5) حصوں میں ماریں گے، جس طرح حد زنا میں بیان ہوا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: نشہ کی حالت میں تمام وہ احکام جاری ہوں گے جو ہوش میں ہوتے ہیں، مثلاً اپنی زوجہ کو طلاق دیدی توطلاق ہوگئی یا اپنا کوئی مال بیچ ڈالا تو بیع ہوگئی۔ صرف چند باتوں میں اس کے احکام علیحدہ ہیں۔ (۱)اگر کوئی کلمہ کفر بکا تواوسے مرتد کا حکم نہ دیں گے یعنی اوس کی عورت بائن نہ ہوگی رہا یہ کہ عند اﷲبھی کافر ہوگا یا نہیں اگر قصداً کفر بکا ہے تو عنداﷲکافر ہے، ورنہ نہیں۔ (۲)جو حدود خالص حق اﷲ ہیں اون کا اقرار کیا تو اقرار صحیح نہیں اسی وجہ سے اگر شراب پینے کا نشہ کی حالت میں اقرار کیاتو حد نہیں۔(۳) اپنی شہادت پر دوسرے کو گواہ نہیں بناسکتا۔(۴) اپنے چھوٹے بچہ کا مہرمثل سے زیادہ پر نکاح نہیں کرسکتا۔(۵)اپنی نابالغہ لڑکی کا مہر مثل سے کم پر نکاح نہیں کرسکتا۔ (۶)کسی نے ہوش کے وقت اسے وکیل کیاتھا کہ یہ میرا سامان بیچ دے