کیونکہ دارالاسلام میں جہل (1)عذر نہیں لہٰذا اگر کوئی حربی دارالحرب سے آکر مشرف باسلام ہوا(2) اور شراب پی اور کہتا ہے مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ حرام ہے تو حد نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲: شراب پی اور کہتا ہے میں نے دودھ یا شربت اسے تصور کیاتھا یاکہتا ہے کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ شراب ہے توحد ہے اور اگر کہتا ہے میں نے اسے نبیذسمجھا تھا تو حد نہیں۔ (4) (بحر)
مسئلہ ۳: انگور کا کچا پانی جب خود جوش کھانے لگے اور اوس میں جھاگ پیدا ہوجائے اُسے خمر کہتے ہیں۔ اسکے ساتھ پانی ملادیا ہو اور پانی کم ہو جب بھی خالص کے حکم میں ہے کہ ایک قطرہ پینے پر بھی حد قائم ہوگی اور پانی زیادہ ہے تو جب تک نشہ نہ ہو حد نہیں اور اگر انگور کا پانی پکالیا گیا تو جب تک اسکے پینے سے نشہ نہ ہو حد نہیں۔ اور اگر خمر کا عرق کھینچا (5) تو اس عرق کا بھی وہی حکم ہے کہ ایک قطرہ پر بھی حد ہے۔ (6)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴: خمر کے علاوہ اور شرابیں پینے سے حد اوس وقت ہے کہ نشہ آجائے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵: شراب پی کر حرم میں داخل ہوا تو حد ہے مگر جبکہ حرم میں پناہ لی تو حد نہیں اور حرم میں پی تو حد ہے دارالحرب میں پینے سے بھی حد نہیں۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: نشہ کی حالت میں حد قائم نہ کریں بلکہ نشہ جاتے رہنے کے بعد قائم کریں اور نشہ کی حالت میں قائم کر دی تو نشہ جانے کے بعد پھر اعادہ کریں۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۷: شراب خوار پکڑا گیااور اس کے مونھ میں ہنوز (10)بُو موجود ہے، اگرچہ افاقہ ہو گیا ہو(11) یا نشہ کی حالت میں لایا گیا اور گواہوں سے شراب پینا ثابت ہو گیاتو حد ہے اور اگر جس وقت اونھوں نے پکڑا تھا اوس وقت نشہ تھا اور بُو تھی،