یوہیں اگر اُس پر سونے کا ملمع(1)ہو تو ٹوٹ جائیگی۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ زمین پر نہیں بیٹھے گا اور زمین پر کوئی چیز بچھا کر بیٹھا مثلاً تختہ یا چمڑا یا بچھونا یا چٹائی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اور اگر بغیر بچھائے ہوئے بیٹھ گیا اگرچہ کپڑا پہنے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اس کا بدن زمین سے نہ لگا تو قسم ٹوٹ گئی اور اگر کپڑے اوتار کرخود اس کپڑے پر بیٹھا تو نہیں ٹوٹی کہ اسے زمین پر بیٹھنا نہ کہیں گے اور اگر گھاس پر بیٹھا تو نہیں ٹوٹی جبکہ زیادہ ہو۔ (3)(درمختار،ردالمحتار)
مسئلہ ۶: قسم کھائی کہ اس بچھونے پر نہیں سوئے گا اور اس پر دوسرا بچھونا اور بچھا دیا اور اوس پر سویا توقسم نہیں ٹوٹی اور اگر صرف چادر بچھائی توٹوٹ گئی۔ اس چٹائی پرنہ سونے کی قسم کھائی تھی اس پر دوسری چٹائی بچھا کر سویا تو نہیں ٹوٹی اور اگریوں کہا تھا کہ بچھونے پر نہیں سوئے گا تو اگرچہ اوس پر دوسرا بچھونا بچھا دیا ہو، ٹوٹ جائے گی(4)(درمختار، بحر، عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ اس تخت پر نہیں بیٹھے گا اور اُس پر دوسرا تخت بچھا لیا تو نہیں ٹوٹی اور بچھونا یا بوریا بچھا کر بیٹھا توٹوٹ گئی۔ ہاں اگر یوں کہا کہ اس تخت کے تختوں پر نہ بیٹھے گا تو اوس پر بچھاکر بیٹھنے سے نہیں ٹوٹے گی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: قسم کھائی کہ زمین پر نہیں چلے گا تو جوتے یا موزے پہن کر یا پتھر پر چلنے سے ٹوٹ جائیگی اور بچھونے پر چلنے سے نہیں۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ فلاں کے کپڑے یا بچھونے پر نہیں سوئے گا اور بدن کا زیادہ حصہ اوس پر کرکے سوگیا ٹوٹ گئی۔ (7)(درمختار)