یعنی اس سے قبل فاسد کرنے میں قسم نہیں ٹوٹی۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ کسی کی امامت نہ کریگا اور تنہا شروع کردی پھر لوگوں نے اس کی اقتداکرلی مگر اس نے امامت کی نیت نہ کی تو مقتدیوں کی نماز ہوجائیگی اگرچہ جمعہ کی نماز ہو اور اس کی قسم نہ ٹوٹی۔ یوہیں اگر جنازہ یا سجدہ تلاوت میں لوگوں نے اسکی اقتدا کی جب بھی قسم نہ ٹوٹی اور اگر قسم کے یہ لفظ ہوں کہ نماز میں امامت نہ کرونگا تو نماز جنازہ میں امامت کی نیت سے بھی نہیں ٹوٹے گی۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: قسم کھائی کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھے گا اور اوس کی اقتدا کی مگر پیچھے کھڑا نہ ہوا بلکہ برابر دہنے یا بائیں کھڑے ہو کر نماز پڑھی یا قسم کھائی کہ فلاں کے ساتھ نماز نہ پڑھے گا اور اس کی اقتدا کی اگرچہ ساتھ نہ کھڑا ہوا بلکہ پیچھے کھڑا ہوا قسم ٹوٹ گئی۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۶: قسم کھائی کہ نماز وقت گزار کر نہ پڑھے گااور سوگیا یہاں تک کہ وقت ختم ہوگیااگر وقت آنے سے پہلے سویا اور وقت جانے کے بعد آنکھ کھلی توقسم نہیں ٹوٹی۔ اور وقت ہوجانے کے بعد سویا توٹوٹ گئی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ فلاں نماز جماعت سے پڑھے گااور آدھی سے کم جماعت سے ملی یعنی چار یا تین رکعت والی میں ایک رکعت جماعت سے پائی یا قعدہ میں شریک ہوا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ جماعت کا ثواب پائے گا۔(5) (شرح وقایہ)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا، اگر تو نماز چھوڑے گی تو تجھ کو طلاق اور نماز قضا ہوگئی مگر پڑھ لی تو طلاق نہ ہوئی کہ عرف میں نماز چھوڑنا اسے کہتے ہیں کہ بالکل نہ پڑھے اگرچہ شرعاً قصداً (6)قضا کر دینے کو بھی چھوڑنا کہتے ہیں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نماز نہ پڑھے گا اور مسجد بڑھائی گئی اوس نے اوس حصہ میں نماز پڑھی جواب زیادہ کیا گیا ہے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم میں یہ کہا فلاں محلہ کی مسجد یا فلاں شخص کی مسجد میں نماز نہ پڑھیگا اور مسجد میں کچھ اضافہ ہوا اوس نے اس جگہ پڑھی جب بھی ٹوٹ گئی۔(8) (بحر)