Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ نہم (9)
344 - 466
    مسئلہ ۱۳: قسم کھائی کہ فلاں کا خط نہ پڑھے گا اور خط کو دیکھا اور جو کچھ لکھا ہے اوسے سمجھا تو قسم ٹوٹ گئی کہ خط پڑھنے سے یہی مقصود ہے زبان سے پڑھنا مقصود نہیں، یہ امام محمد رضی اﷲعنہ کا قول ہے اور امام ابو یوسف رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک زبان سے تلفظ نہ کریگاقسم نہیں ٹوٹے گی اور اسی قولِ ثانی پر(1) فتویٰ ہے۔(2) (بحر) 

    مگر یہاں کا عام محاور ہ یہی ہے کہ خط دیکھا اور لکھے ہوئے کوسمجھا تو یہ کہتے ہیں میں نے پڑھا۔ لہٰذا یہاں کے محاور ہ میں قسم ٹوٹنے پر فتویٰ(3) ہونا چاہیے واﷲتعالیٰ اعلم۔ یہاں کے محاور ہ میں یہ لفظ کہ زید کا خط نہ پڑھوں گا ایک دوسرے معنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے وہ یہ کہ زید بے پڑھا شخص ہے اور اوس کے پاس جب کہیں سے خط آتا ہے تو کسی سے پڑھواتا ہے تو اگر یہ پڑھنا مقصود ہے تواس میں دیکھنا اور سمجھنا قسم ٹوٹنے کے لیے کافی نہیں بلکہ پڑھ کر سنانے سے ٹوٹے گی۔ 

    مسئلہ ۱۴: قسم کھائی کہ کسی عورت سے کلام نہ کریگا اور بچی سے کلام کیا تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگر قسم کھائی کہ کسی عورت سے نکاح نہ کریگااور چھوٹی لڑکی سے نکاح کیا تو ٹوٹ گئی۔(4) (بحر) 

    مسئلہ ۱۵: قسم کھائی کہ فقیروں اور مسکینوں سے کلام نہ کریگا اور ایک سے کلام کرلیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر یہ نیت ہے کہ تمام فقیروں اور مسکینوں سے کلام نہ کریگا تو نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر قسم کھائی کہ بنی آدم سے(5) کلام نہ کریگا توایک سے کلام کرنے میں قسم ٹوٹ جائے گی اور نیت میں تمام اولاد آدم ہے تو نہیں۔ (6)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۶: قسم کھائی کہ فلاں سے ایک سال کلام نہ کروں گا تو اس وقت سے ایک سال یعنی بارہ مہینے تک کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر کہا کہ ایک مہینہ کلام نہ کریگا تو جس وقت سے قسم کھائی ہے اوس وقت سے ایک مہینہ یعنی تیس دن مراد ہیں۔ اور اگر دن میں قسم کھائی کہ ایک دن کلام نہ کرونگا تو جس وقت سے قسم کھائی ہے اوس وقت سے دوسرے دن کے اوسی وقت تک کلام سے قسم ٹوٹے گی۔ اور اگر رات میں قسم کھائی کہ ایک رات کلام نہ کرونگا تو اوس وقت سے دوسرے دن کے بعد والی رات کے اوسی وقت تک مرادہے لہٰذا درمیان کا دن بھی شامل ہے۔ اور ا گر رات میں کہا کہ قسم خدا کی فلاں سے ایک دن کلام نہ کروں گا تو اوس وقت سے غروب آفتاب تک کلام کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔۔۔۔۔۔ یعنی امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالی علیہ کے قول پر۔

2۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴ ،ص ۵۵۹.

3۔۔۔۔۔۔ ثم رأیت فی ردالمحتار قال ''ح'' و قول محمد ہو الموافق لعرفنا کما لا یخفٰی اھ فلِلّٰہِ الحمد. ۱۲ منہ .

4۔۔۔۔۔۔ البحرالرائق ''،کتاب الأیمان،باب الیمین فی الأکل ...إلخ ،ج۴،ص۵۶۰.

5۔۔۔۔۔۔ آدم علیہ السلام کی اولاد،مراد کسی بھی انسان۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأیمان ، الباب السادس فی الیمین علی الکلام ،ج۲ ،ص۹۸.
Flag Counter