یہاں ایک قاعدہ یاد رکھنا چاہیے جس کا قسم میں ہرجگہ لحاظ ضرور ہے وہ یہ کہ قسم کے تمام الفاظ سے وہ معنے لیے جائیں گے جن میں اہل عرف استعمال کرتے ہوں مثلاً کسی نے قسم کھائی کہ کسی مکان میں نہیں جائیگا اور مسجد میں یاکعبہ معظمہ میں گیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ یہ بھی مکان ہیں یوں ہی حمام میں جانے سے بھی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱: قسم میں الفاظ کا لحاظ ہوگا اس کا لحاظ نہ ہوگا کہ اس قسم سے غرض کیا ہے یعنی اون لفظوں کے بول چال میں جو معنے ہیں وہ مراد لیےجائیں گے قسم کھانے والے کی نیت اور مقصد کا اعتبار نہ ہوگا مثلاً قسم کھائی کہ فلاں کے لیےایک پیسہ کی کوئی چیز نہیں خریدوں گا اور ایک روپیہ کی خریدی تو قسم نہیں ٹوٹی حالانکہ اس کلام سے مقصد یہ ہوا کرتا ہے کہ نہ پیسے کی خریدوں گا نہ روپیہ کی مگر چونکہ لفظ سے یہ نہیں سمجھا جاتا لہٰذا اس کا اعتبار نہیں یا قسم کھائی کہ دروازہ سے باہرنہ جاؤں گا اور دیوار کود کریا سیڑھی لگا کر باہر چلاگیا تو قسم نہیں ٹوٹی اگرچہ اس سے مراد یہ ہے کہ گھرسے باہر نہ جاؤں گا۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: قسم کھائی کہ اس گھرمیں نہ جاؤں گا پھروہ مکان بالکل گرگیا اب اوس میں گیا تو نہیں ٹوٹی۔ یوہیں اگر گرنے کے بعد پھر عمارت بنائی گئی اور اب گیا جب بھی قسم نہیں ٹوٹی اور اگر صرف چھت گری ہے دیواریں بدستور باقی ہیں توقسم ٹوٹ گئی۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۳: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نہ جاؤں گا پھر وہ مسجد شہید ہوگئی اور گیا تو قسم ٹوٹ گئی۔ یوہیں اگر گرنے کے بعد پھرسے بنی تو جانے سے قسم ٹوٹ جائے گی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: قسم کھائی کہ اس مسجد میں نہ جاؤں گا اور اوس مسجد میں کچھ اضافہ کیاگیا اور یہ شخص اوس حصہ میں یا جواب بڑھایا گیاہے تو قسم نہیں ٹوٹی اور اگریہ کہا کہ فلاں محلہ کی مسجد میں نہ جاؤں گا یا وہ مسجد جن لوگوں کے نام سے مشہور ہے اوس نام کوذکر کیا تو اس حصہ میں جو بڑھایا گیا ہے جانے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔(5) (عالمگیری)