رہا یہ کہ میلاد شریف میں فرش و روشنی کا اچھا انتظام کرنا اور مٹھائی تقسیم کرنا یا لوگوں کو بُلاوا دینا اور اس کے لیے تاریخ مقرر کرنا اور پڑھنے والوں کا خوش الحانی سے پڑھنا یہ سب باتیں جائز ہیں البتہ غلط اور جھوٹی روایتوں کا پڑھنا منع ہے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں گنہگار ہونگے۔
مسئلہ ۱۹: عَلَم اور تعزیہ بنانے اور پیک بننے اور محرم میں بچوں کو فقیر بنانے اور بدھی پہنانے اور مرثیہ کی مجلس(1) کرنے اور تعزیوں پر نیاز دلوانے وغیرہ خرافات(2) جو روافض اور تعزیہ دار لوگ کرتے ہیں ان کی منّت سخت جہالت ہے ایسی منّت ماننی نہ چاہیے اور مانی ہو تو پوری نہ کرے اور ان سب سے بدتر شیخ سدّو کامرغا اور کڑاہی ہے۔
مسئلہ ۲۰: بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے کان ناک چھدوانے اور بچوں کی چوٹیا رکھنے کی منّت مانتی ہیں یا اور طرح طرح کی ایسی منتیں مانتی ہیں جن کا جواز کسی طرح ثابت نہیں اولاً ایسی واہیات(3) منتوں سے بچیں اور مانی ہوتوپوری نہ کریں اور شریعت کے معاملہ میں اپنے لغو خیالات (4) کو دخل نہ دیں نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوہیں کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کہ پوری نہ کرینگے تو بچہ مرجائیگا بچہ مرنے والا ہوگا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی۔ منّت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، دُرود شریف، کلمہ شریف، قرآن مجید پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منّت مانو اور اپنے یہاں کے کسی سنی عالم سے دریافت بھی کرلو کہ یہ منّت ٹھیک ہے یا نہیں، وہابی سے نہ پوچھنا کہ وہ گمراہ بے دین ہے وہ صحیح مسئلہ نہ بتائے گا بلکہ ایچ پیچ (5) سے جائز امر کو ناجائز کہہ دیگا۔
مسئلہ ۲۱: منّت یا قسم میں انشاء اﷲ کہا تواوس کا پورا کرنا واجب نہیں بشرطیکہ ان شاء اﷲ کا لفظ اوس کلام سے متصل ہو اوراگر فاصلہ ہوگیا مثلاً قسم کھا کر چُپ ہوگیا یا درمیان میں کچھ اور بات کی پھر انشاء اﷲ کہا تو قسم باطل نہ ہوئی۔ یوہیں ہر وہ کام جو کلام کرنے سے ہوتا ہے مثلاً طلاق اقرار وغیرہما یہ سب ان شاء اﷲ کہہ دینے سے باطل ہوجاتے ہیں۔ ہاں اگر یوں کہاکہ میری فلاں چیز اگر خدا چاہے تو بیچ دو تو یہاں اوس کو بیچنے کا اختیار رہے گا اور وکالت صحیح ہے یا یوں کہا کہ میرے مرنے کے بعد میرا اتنا مال انشاء اﷲخیرات کردینا تو وصیت صحیح ہے اور جو کام دل سے متعلق ہیں وہ باطل نہیں ہوتے، مثلاً نیت کی کہ کل انشاء اﷲ روزہ رکھوں گا تو یہ نیت درست ہے۔ (6)(درمختار)