خدا کی پھٹکار (1)ہو،رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت نہ ملے، مجھے خدا کا دیدار نہ نصیب ہو، مرتے وقت کلمہ نہ نصیب ہو۔ (2)
مسئلہ ۱۰: جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ اﷲ (عزوجل) نے جس چیز کو حلال کیا اوسے کون حرام کرسکے مگر اوس کے برتنے سے کفارہ لازم آئیگا یعنی یہ بھی قسم ہے۔ (3)(تبیین)
مسئلہ ۱۱: تجھ سے بات کرناحرام ہے یہ یمین (4)ہے بات کریگا تو کفارہ لازم ہوگا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: اگر اس کو کھاؤں تو سوئر کھاؤں یا مُردار کھاؤں یہ قسم نہیں یعنی کفارہ لازم نہ ہوگا۔ (6) (مبسوط)
مسئلہ ۱۳: غیر خدا کی قسم قسم نہیں مثلاً تمھاری قسم، اپنی قسم، تمھاری جان کی قسم، اپنی جان کی قسم، تمھارے سرکی قسم، اپنے سرکی قسم، آنکھوں کی قسم، جوانی کی قسم، ماں باپ کی قسم، اولادکی قسم، مذہب کی قسم، دین کی قسم، علم کی قسم، کعبہ کی قسم، عرش الٰہی کی قسم، رسول اﷲ کی قسم۔ (7)
مسئلہ ۱۴: خدا ورسول کی قسم یہ کام نہ کروں گا یہ قسم نہیں۔ اگر کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہ کروں گا اور واقع میں قسم کھائی ہے تو قسم ہے اور جھوٹ کہا تو قسم نہیں جھوٹ بولنے کاگناہ ہوا۔ اور اگر کہا خدا کی قسم کہ اس سے بڑھ کر کوئی قسم نہیں یااوس کے نام سے بزرگ کوئی نام نہیں یا اوس سے بڑھ کر کوئی نہیں میں اس کام کو نہ کروں گا تو یہ قسم ہوگئی اور درمیان کا لفظ فاصل قرار نہ دیا جائیگا۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: اگر یہ کام کروں تو خدا سے مجھے جتنی اُمیدیں ہیں سب سے نااُمید ہوں، یہ قسم ہے اور توڑنے پر کفارہ لازم۔ (9) (عالمگیری)