ہے اور دو۲برس پر بھی بچہ نہ ہوا اورعورت کہتی ہے کہ مجھے حیض نہیں آیا اور حمل کا گمان تھا تو نفقہ برابر لیتی رہے گی یہاں تک کہ تین حیض آئیں یا سِن ایاس آکر تین مہینے گزرجائیں۔(1) (خانیہ)
مسئلہ۲۱: عدت کے نفقہ کا نہ دعویٰ کیا نہ قاضی نے مقرر کیا تو عدت گزرنے کے بعد نفقہ ساقط ہوگیا۔
مسئلہ۲۲: مفقود (2)کی عورت نے نکاح کرلیا اور اس دوسرے شوہر نے دخول بھی کرلیا ہے، اب پہلا شوہر آیا تو عورت اور دوسرے شوہر میں تفریق کردی جائیگی اور عورت عدت گزارے گی، مگر اس عدت کانفقہ نہ پہلے شوہر پر ہے، نہ دوسرے پر۔ (3)(خانیہ)
مسئلہ۲۳: اپنی مدخولہ عورت کو تین طلاقیں دیدیں عورت نے عدت میں دوسرے سے نکاح کر لیا اور دخول بھی ہوا تو تفریق کردی جائے اور پہلے شوہر پر نفقہ ہے۔ اور منکوحہ نے دوسرے سے نکاح کیا اور دخول کے بعد معلوم ہوا اور تفریق کرائی گئی پھر شوہر کو معلوم ہوا اُس نے تین طلاقیں دیدیں تو عورت پر دونوں کی عدت واجب ہے اور نفقہ کسی پرنہیں۔(4) (خانیہ)
مسئلہ۲۴: عدت اگر مہینوں سے ہو تو کسی مقدارِ معین پر صلح ہوسکتی ہے اور حیض یا وضعِ حمل سے ہو تو نہیں کہ یہ معلوم نہیں کتنے دنوں میں عدت پوری ہوگی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ۲۵: وفات کی عدت میں نفقہ واجب نہیں، خواہ عورت کو حمل ہو یا نہیں۔ یوہیں جو فرقت عورت کی جانب سے معصیت کے ساتھ ہواُس میں بھی نہیں مثلاً عورت مرتدہ ہوگئی یا شہوت کے ساتھ شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا یا شہوت کے ساتھ چھوا، ہاں اگر مجبور کی گئی توساقط نہ ہوگا۔ یوہیں اگر عدت میں مرتدہ ہوگئی تونفقہ ساقط ہوگیا پھر اگر اسلام لائی تو نفقہ عود کر آئیگا۔ اور اگر عدت میں شوہر کے بیٹے یا باپ کا بوسہ لیا تو نفقہ ساقط نہ ہوا اور جو فرقت زوجہ کی جانب سے سببِ مباح سے ہواُس میں نفقہ عدت ساقط نہیں مثلاً خیارِ عتق، خیار ِبُلوغ عورت کو حاصل ہوا، اُس نے اپنے نفس کو اختیار کیا بشرطیکہ دخول کے بعد ہو ورنہ عدت ہی نہیں اور خلع میں نفقہ ہے، ہاں اگر خلع اس شرط پر ہواکہ عورت نفقہ وسکنےٰ(6)معاف کرے تو نفقہ اب نہیں پائے گی مگر سکنٰے سے شوہر اب بھی بَری نہیں کہ عورت اسکو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔(7) (جوہرہ)