مسئلہ۱۵: عورت اگر قید ہوگئی اگرچہ ظلماً تو شوہر پر نفقہ واجب نہیں ہاں اگر خود شوہر کا عورت پر دَین تھا اُسی نے قید کرایا تو ساقط نہ ہوگا۔ یوہیں اگرعورت کو کوئی اُٹھالے گیا یا چھین لے گیا جب بھی شوہر پر نفقہ واجب نہیں۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ۱۶: عورت حج کے ليے گئی اور شوہر ساتھ نہ ہو تو نفقہ واجب نہیں اگرچہ محرم (2)کے ساتھ گئی ہو اگرچہ حج فرض ہو۔ اگرچہ شوہر کے مکان پر رہتی تھی۔ اور اگر شوہر کے ہمراہ ہے تو نفقہ واجب ہے حج فرض ہو یا نفل مگر سفر کے مطابق نفقہ واجب نہیں بلکہ حضر کا نفقہ(3) واجب ہے، لہٰذا کرایہ وغیرہ مصارفِ سفر(4) شوہر پر واجب نہیں۔ (5)(جوہرہ ،خانیہ)
مسئلہ۱۷: کسی عورت کو حمل ہے لوگوں کو شبہہ ہے کہ فلاں شخص کا حمل ہے لہٰذا عورت کے باپ نے اُسی سے نکاح کر دیا مگر وہ کہتا ہے کہ حمل مجھ سے نہیں تو نکاح ہو جائے گا مگر نفقہ شوہر پر واجب نہیں اور اگر حمل کا اقرار کرتا ہے تو نفقہ واجب ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ۱۸: جس عورت کو طلاق دی گئی ہے بہر حال عدت کے اندر نفقہ پائے گی طلاق رجعی ہو یا بائن یا تین طلاقیں، عورت کو حمل ہو یا نہیں۔(7) (خانیہ)
مسئلہ۱۹: جو عورت بے اجازتِشوہر گھر سے چلی جایا کرتی ہے اس بنا پر اُسے طلاق دیدی تو عدت کا نفقہ نہیں پائے گی ہاں اگر بعدِ طلاق شوہر کے گھر میں رہی اور باہر جانا چھوڑدیا تو پائے گی۔ (8)(عالمگيری)
مسئلہ۲۰: جب تک عورت سِن ایاس (9)کو نہ پہنچے اُس کی عدت تین حیض ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا اور اگر اس عمر سے پہلے کسی وجہ سے جوان عورت کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت کتنی ہی طویل ہو زمانہ عدت کا نفقہ واجب ہے یہاں تک کہ اگر سِن ایاس تک حیض نہ آیا تو بعدِ ایاس تین ماہ گزرنے پر عدت ختم ہوگی اور اُس وقت تک نفقہ دینا ہوگا۔ ہاں اگر شوہر گواہوں سے ثابت کردے کہ عورت نے اقرار کیا ہے کہ تین حیض آئے اور عدت ختم ہوگئی تو نفقہ ساقط کہ عدت پوری ہوچکی اور اگر عورت کو طلاق ہوئی اُس نے اپنے کو حاملہ بتایا تو وقتِ طلاق سے دو برس تک وضعِ حمل (10)کاانتظار کیا جائے وضعِ حمل تک نفقہ واجب