طرف سے اتنے پر آزاد کردے تو ہو جائیگا۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: ظہار کے دو ۲ کفارے اس کے ذمّے تھے، اس نے دو ۲ غلام آزاد کیے اوریہ نیت نہ کی کہ فلاں غلام فلاں کفارہ میں آزاد کیا تو دونوں ادا ہوگئے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: کسی غلام کو کہا اگر میں تجھے خریدو ں تو تُو آزاد ہے پھر اُسے کفارہ ظہار کی نیت سے خریدا تو آزاد ہوگا مگرکفارہ ادا نہ ہوا اور اگر پہلے کہہ دیا تھا کہ اگر تجھے خریدوں تو میرے ظہار کے کفارہ میں آزاد ہے تو ہوجائیگا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جب غلام پر قدرت ہے اگرچہ وہ خدمت کا غلام ہو تو کفارہ آزاد کرنے ہی سے ہو گا اور اگر غلام کی اِستطاعت نہ ہو خواہ ملتا نہیں یا اسکے پاس دام(4) نہیں تو کفارہ میں پے در پے (5) دو۲ مہینے کے روزے رکھے اور اگر اُس کے پاس خدمت کا غلام ہے یا مدیون (6)ہے اور دَین(7) ادا کرنے کے ليے غلام کے سواکچھ نہیں تو ان صورتوں میں بھی روزے وغیرہ سے کفارہ ادا نہیں کرسکتا بلکہ غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۵: روزے سے کفارہ ادا کرنے میں یہ شرط ہے کہ نہ اِس مدت کے اندر ماہ رمضان ہو، نہ عید الفطر، نہ عیداضحی نہ ایام تشریق۔ ہاں اگر مسافر ہے تو ماہ رمضان میں کفارہ کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے، مگر ایامِ مَنْہِیَہ(9) میں اسے بھی اجازت نہیں۔ (10)(جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۱۶: روزے اگر پہلی تاریخ سے رکھے تو دوسرے مہینہ کے ختم پر کفارہ ادا ہوگيا اگرچہ دونوں مہینے ۲۹ کے ہوں اور اگر پہلی تاریخ سے نہ رکھے ہوں تو ساٹھ پورے رکھنے ہونگے اور اگر پندرہ روزے رکھنے کے بعد چاند ہوا پھراس مہینے کے روزے رکھ ليے اور یہ ۲۹ دن کا مہینہ ہو اس کے بعد پندرہ دن اور رکھ ليے کہ ۵۹دن ہوئے جب بھی کفارہ