Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
136 - 282
    مسئلہ ۶: کشتی گھر کے حکم میں ہے کہ کشتی کے چلنے سے مجلس نہ بدلے گی اور جانور پر سوار ہے اور جانور چل رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے، ہاں اگر شوہر کے سکوت کرتے ہی فوراً اُسی قدم میں جواب دیا تو طلاق ہوگئی اور اگر محمل (1)میں دونوں سوارہیں جسے کوئی کھینچے ليے جاتا ہے تو مجلس نہیں بدلی کہ یہ کشتی کے حکم میں ہے۔ (2)(درمختار) گاڑی پالکی(3) کا بھی یہی حکم ہے۔ 

    مسئلہ ۷: بیٹھی ہوئی تھی لیٹ گئی اگر تکیہ وغیرہ لگا کر اُس طرح لیٹی جیسے سونے کے ليے لیٹتے ہیں تو اختیار جاتا رہا۔ (4)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۸: دو۲زا نوبیٹھی تھی چار زانو بیٹھ گئی یا عکس کیا یا بیٹھی سوگئی تو مجلس نہیں بدلی۔(5) (عالمگیری ، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹: شوہر نے اُسے مجبور کرکے کھڑا کیا یا جماع کیا تو اختیار نہ رہا۔(6) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۰: شوہر کے اختیار دینے کے بعد عورت نے نماز شروع کردی اختیار جاتا رہا نماز فرض ہو یا واجب یا نفل۔ اور اگر عورت نماز پڑھ رہی تھی اُسی حالت میں اختیار دیا تو اگر وہ نماز فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ ہے تو پوری کرکے جواب دے اختیار باطل نہ ہوگا اور اگر نفل نماز ہے تو دو رکعت پڑھکر جواب دے اور اگر تیسری رکعت کے ليے کھڑی ہوئی تو اختیار جاتا رہا اگرچہ سلام نہ پھیرا ہو۔ اور اگر سُبْحٰنَ اللہِ کہا یا کچھ تھوڑا سا قرآن پڑھا تو باطل نہ ہو ا اور زیادہ پڑھا تو باطل ہوگیا۔(7) (جوہرہ) اور اگر عورت نے جواب میں کہا تُو اپنی زبان سے کیوں طلاق نہیں دیتا تو اس کہنے سے اختیار باطل نہ ہوگا اور اگر یہ کہا اگر تُو مجھے طلاق دیتا ہے تو اتنا مجھے دیدے تو اختیار باطل ہوگیا۔(8) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۱: اگر بیک وقت اس کی اور شفعہ کی خبر پہنچی اور عورت دونوں کو اختیار کرنا چاہتی ہے تو یہ کہنا چاہيے کہ میں نے دونوں کو اختیار کیا ورنہ جس ایک کو اختیار کرے گی دوسرا جاتا رہے گا۔(9) (عالمگيری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی کجاوہ۔

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.

3۔۔۔۔۔۔ڈولی۔

4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۷،۳۸۸.

و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۵.

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.

7۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثاني،ص۵۸.

8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الأول،ج۱،ص۳۸۸.

و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۶.

9۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۸.
Flag Counter