| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
مجلس کے ساتھ مقید نہیں بعد مجلس بھی طلاق ہو سکتی ہے اور اس میں رجوع کرسکتا ہے کہ یہ وکیل ہے اور مؤکل کو اختیار ہے کہ وکیل کو معزول کردے مگر جبکہ مشیت (1)پر معلق کردیا ہو یعنی کہہ دیا ہو کہ اگر تو چاہے تو طلاق دیدے تو اب توکیل(2) نہیں بلکہ تملیک(3) ہے لہٰذا مجلس کے ساتھ خاص ہے اور رجوع نہ کرسکے گا اور اگر عورت سے کہا تو اپنے کو اور اپنی سوت کو طلاق دیدے تو خود اُس کے حق میں تملیک ہے اور سَوت کے حق میں توکیل اور ہر ایک کا حکم وہ ہے جو اوپر مذکور ہو ا یعنی اپنے کو مجلس بعد نہیں دے سکتی اور سَوت کو دے سکتی ہے۔(4) (جوہرہ ،درمختار)
مسئلہ ۴: تملیک و توکیل میں چند باتوں کا فرق ہے تملیک میں رجوع نہیں کرسکتا۔ معزول نہیں کرسکتا بعد تملیک کے شوہر مجنون ہو جائے تو باطل نہ ہوگی۔ جس کو مالک بنا یا اُسکا عاقل ہونا ضروری نہیں اور مجلس کے ساتھ مقیّد ہے اور توکیل میں اِن سب کا عکس ہے اگر بالکل نا سمجھ بچے سے کہا تو میری عورت کو اگر چاہے طلاق دیدے اور وہ بول سکتاہے اُس نے طلاق دیدی واقع ہوگئی۔ یوہیں اگر مجنون کو مالک کردیا اور اُس نے دیدی تو ہوگئی اور وکیل بنایا تو نہیں اور مالک کرنے کی صورت میں اگر اچھا تھا اُس کے بعد مجنون ہوگیا تو واقع نہ ہو گی۔(5) (درمختار)(مجلس بدلنے کی صورتیں)
مسئلہ ۵: بیٹھی تھی کھڑی ہوگئی یا ایک کام کررہی تھی اُسے چھوڑ کر دوسرا کام کرنے لگی مثلاً کھانا منگوایا یا سو گئی یا غسل کرنے لگی یا مہندی لگانے لگی یا کسی سے خریدو فروخت کی بات کی یا کھڑی تھی جانور پر سوار ہوگئی یا سوار تھی اتر گئی یا ایک سواری سے اتر کر دوسری پر سوار ہوئی یا سوار تھی مگر جانور کھڑا تھا چلنے لگا تو اِن سب صورتوں میں مجلس بدل گئی اور اب طلاق کا اختیار نہ رہا اور اگر کھڑی تھی بیٹھ گئی یا کھڑی تھی اور مکان میں ٹہلنے لگی یا بیٹھی ہوئی تھی تکیہ لگالیا یا تکیہ لگائے ہوئے تھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی یا اپنے باپ وغیرہ کسی کو مشورہ کے ليے بُلایا یا گواہوں کو بُلانے گئی کہ اُن کے سامنے طلاق دے بشرطیکہ وہاں کوئی ایسا نہیں جوبُلادے یا سواری پر جارہی تھی اُسے روک دیا یا پانی پیا یا کھانا وہاں موجود تھا کچھ تھوڑا ساکھا لیا، ان سب صورتوں میں مجلس نہیں بدلی۔(6) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔مرضی،ارادہ۔ 2۔۔۔۔۔۔وکیل بنانا۔ 3۔۔۔۔۔۔مالک بنانا۔ 4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۴. و''الجوہرۃالنیرۃ''،کتاب الطلاق،الجزء الثاني،ص۶۰. 5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۴. 6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول،ج۱،ص۳۸۷. و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب تفویض الطلاق،ج۴،ص۵۴۵،وغیرہما.