میرے مصرف کی نہیں (۶۸) مجھے تجھ پر کوئی راہ نہیں (۶۹) کچھ قابو نہیں (۷۰) مِلک نہیں (۷۱) میں نے تیری راہ خالی کردی (۷۲) تو میری مِلک (1) سے نکل گئی (۷۳) میں نے تجھ سے خلع کیا (۷۴) اپنے میکے بیٹھ (۷۵) تیری باگ ڈھیلی کی (۷۶) تیری رسّی چھوڑدی (۷۷) تیری لگام اُتارلی (۷۸) اپنے رفیقوں سے جامل (۷۹) مجھے تجھ پر کچھ اختیار نہیں (۸۰) میں تجھ سے لا دعویٰ ہوتا ہوں (۸۱) میرا تجھ پر کچھ دعویٰ نہیں (۸۲) خاوند تلاش کر (۸۳) میں تجھ سے جُدا ہوں یا ہوا (فقط میں جُدا ہوں یا ہوا کافی نہیں اگرچہ بہ نیت طلاق کہا) (۸۴) میں نے تجھے جُدا کر دیا (۸۵) میں نے تجھ سے جُدائی کی (۸۶) تو خود مختار ہے (۸۷) تو آزاد ہے (۸۸) مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں (۸۹) مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا (۹۰) میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا (۹۱) باپ یا (۹۲) ماں یا (۹۳) خاوندوں کو دیا یا (۹۴) خود تجھ کو دیا (اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو دینا کہا تو کچھ نہیں) (۹۵) مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا نہیں (۹۶) میں تیرے نکاح سے بیزار ہوں (۹۷) بَری ہوں (۹۸) مجھ سے دُور ہو (۹۹) مجھے صورت نہ دکھا (۱۰۰) کنارے ہو (۱۰۱) تو نے مجھ سے نجات پائی (۱۰۲) الگ ہو (۱۰۳) میں نے تیرا پاؤں کھولدیا (۱۰۴) میں نے تجھے آزاد کیا (۱۰۵) آزاد ہو جا (۱۰۶) تیری بند کٹی (۱۰۷) تو بے قید ہے (۱۰۸) میں تجھ سے بَری ہوں (۱۰۹) اپنا نکاح کر (۱۱۰) جس سے چاہے نکاح کرلے (۱۱۱) میں تجھ سے بیزارہوا (۱۱۲) میرے ليے تجھ پر نکاح نہیں (۱۱۳) میں نے تیرا نکاح فسخ کیا (۱۱۴) چاروں راہیں تجھ پر کھولدیں (اور اگر یوں کہا کہ چاروں راہیں تجھ پر کُھلی ہیں تو کچھ نہیں جب تک یہ نہ کہے کہ (۱۱۵) جو راستہ چاہے اختیار کر) (۱۱۶) میں تجھ سے دست بردار ہوا (۱۱۷) میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا باپ یا ماں کو واپس دیا (۱۱۸) تو میری عصمت سے نکل گئی (۱۱۹) میں نے تیری مِلک سے شرعی طور پر اپنانام اُتار دیا (۱۲۰) تو قیامت تک یا عمر بھر میرے لائق نہیں (۱۲۱) تو مجھ سے ایسی دور ہے جیسے مکہ معظمہ مدینہ طیّبہ سے یا دلّی لکھنؤ سے۔(2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱: ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کرے، مجھے تیری حاجت نہیں۔ مجھے تجھ سے سروکار نہیں۔ تجھ سے مجھے کام نہیں۔ غرض نہیں۔ مطلب نہیں۔ تو مجھے درکار نہیں۔ تجھ سے مجھے رغبت نہیں۔ میں تجھے نہیں چاہتا۔(3) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۲: کنایہ کے اِن الفاظ سے ایک بائن طلاق ہوگی اگر بہ نیت طلاق بولے گئے اگرچہ بائن کی نیت نہ ہو اور دو۲ کی نیت کی جب بھی وہی ایک واقع ہوگی مگر جبکہ زوجہ باندی ہو تو دو۲کی نیت صحیح ہے اور تین کی نیت کی توتین واقع