Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
122 - 282
    مسئلہ ۳۱: اگر کہا (۸۷)زید کے آنے سے ایک ماہ پہلے تجھے طلاق ہے اور زید ایک مہینے کے بعد آیا تو اس وقت طلاق ہوگی اس سے پہلے نہیں۔ (1)(درمختار) 

    مسئلہ ۳۲: یہ کہا کہ(۸۸) جب کبھی تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے یا (۸۹) جب تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے تو چُپ ہوتے ہی طلاق پڑجائے گی۔ اور یہ کہا کہ (۹۰) اگر تجھے طلاق نہ دوں تو طلاق ہے تو مرنے سے کچھ پہلے طلاق ہوگی۔ (2)(عامہ کتب) 

    مسئلہ ۳۳: یہ کہا کہ(۹۱) اگر آج تجھے تین طلاقیں نہ دوں تو تجھے تین طلاقیں تو دیگا جب بھی ہو نگی اور نہ دیگا جب بھی اور بچنے کی یہ صورت ہے کہ عورت کو ہزار روپے کے بدلے میں طلاق دیدے اور عورت کو چاہیے کہ قبول نہ کرے اب اگر دن گزر گیا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(3) (خانیہ) 

    مسئلہ ۳۴: کسی عورت سے کہا (۹۲)تجھے طلاق ہے جس دن تجھ سے نکاح کروں اور رات میں نکاح کیا تو طلاق ہوگئی۔(4) (تنویر) 

    مسئلہ ۳۵: کسی عورت سے کہا(۹۳) اگر تجھ سے نکاح کروں یا (۹۴) جب، یا (۹۵) جس وقت تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق ہے تو نکاح ہوتے ہی طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں اگر خاص عورت کو معین نہ کیا بلکہ کہا اگر یا جب یا جس وقت میں نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے تو نکاح کرتے ہی طلاق ہو جائیگی مگر اسکے بعد دوسری عورت سے نکاح کریگا تو اُسے طلاق نہ ہوگی۔ ہاں اگر کہا (۹۶) جب کبھی میں کسی عورت سے نکاح کروں اُسے طلاق ہے تو جب کبھی نکاح کریگا طلاق ہو جائیگی۔ ان صورتوں میں اگر چاہے کہ نکاح ہو جائے اور طلاق نہ پڑے تو اسکی صورت یہ ہے کہ فضولی (یعنی جسے اس نے نکاح کا وکیل نہ کیا ہو) بغیر اس کے حکم کے اُس عورت یا کسی عورت سے نکاح کردے اور جب اسے خبر پہنچے تو زبان سے نکاح کو نا فذنہ کرے بلکہ کوئی ایسا فعل کرے جس سے اجازت ہو جائے مثلاً مہر کا کچھ حصہ یا کل اُس کے پاس بھیج دے یا اُس کے ساتھ جماع کرے یا شہوت کے ساتھ ہاتھ لگائے یا بوسہ لے یا لوگ مبارکباد دیں تو خاموش رہے انکار نہ کرے تو اِ س صورت میں نکاح ہو جائے گا اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ '' الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۶. 

3۔۔۔۔۔۔ '' الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج ۱، ص۲۲۱،۲۲۲. 

4۔۔۔۔۔۔''تنویرالابصار''، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۷۸.
Flag Counter