مسئلہ ۵۱: مسلمان نے کتابیہ سے نکاح کیا تھا ،پھر وہ مجوسیہ ہوگئی تو نکاح فسخ ہوگيا اور مرد پر حرام ہوگئی اور اگر یہودیہ تھی اب نصرانیہ ہوگئی یا نصرانیہ تھی، یہودیہ ہوگئی تو نکاح باطل نہ ہوا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: کتابی مرد کا نکاح مرتدہ کے سوا ہر کافرہ سے ہوسکتا ہے اور اولاد کتابی کے حکم میں ہے۔ مسلمان و کتابیہ سے اولاد ہوئی تو اولاد مسلمان کہلائے گی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: مرد و عورت کافر تھے دونوں مسلمان ہوئے تو وہی نکاح سابق(3) باقی ہے جدید نکاح کی حاجت نہیں اور اگر صرف مرد مسلمان ہوا تو عورت پر اسلام پیش کریں، اگر مسلمان ہوگئی فبہا (4) ورنہ تفریق کر دیں۔ يوہيں اگر عورت پہلے مسلمان ہوئی تو مرد پر اسلام پیش کریں، اگر تین حیض آنے سے پہلے مسلمان ہوگيا تو نکاح باقی ہے، ورنہ بعد کو جس سے چاہے نکاح کرلے کوئی اسے منع نہیں کرسکتا۔
مسئلہ ۵۴: مسلمان عورت کا نکاح مسلمان مرد کے سوا کسی مذہب والے سے نہیں ہوسکتا اور مسلمان کے نکاح میں کتابیہ ہے، اس کے بعد مسلمان عورت سے نکاح کیا یا مسلمان عورت نکاح میں تھی، اس کے ہوتے ہوئے کتابیہ سے نکاح صحیح ہے۔ (5) (عالمگیری)