روپے مہر پر میں نے تجھ سے نکاح کیا، عورت نے کہا پانسو مہر پر میں نے قبول کیا تو نکاح ہوگيا مگر پہلی صورت میں اگر عورت نے بھی اُسی مجلس میں دو ۲ ہزار قبول کيے تو مَہر دو ہزار ورنہ ایک ہزار اور دوسری صورت میں مطلقاً پانسو مہر ہے۔ اگر عورت نے ہزار کو کہا، مرد نے پانسو پر قبول کیا تو ظاہر یہ ہے کہ نہیں ہوا، اِس ليے کہ ایجاب کے مخالف ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: غلام نے بغیر اجازتِ مولیٰ اپنا نکاح کسی عورت سے کیا اور مہر خود اپنے کو کیا اُس کے مولیٰ نے نکاح تو جائز کیا مگر غلام کے مَہر میں ہونے کی اجازت نہ دی تو نکاح ہوگيا اور مہر کی نسبت یہ حکم ہے کہ مہرمثل و قیمت غلام دونوں میں جو کم ہے وہ مَہر ہے غلام بیچ کر مہر ادا کیا جائے۔ (2) (عالمگیری)
6 لڑکی بالغہ ہے تو اُس کا راضی ہونا شرط ہے،(3) ولی کو یہ اختیارنہیں کہ بغیر اُس کی رضا کے نکاح کر دے۔
7 کسی زمانۂ آئندہ کی طرف نسبت نہ کی ہو، نہ کسی شرط نامعلوم پر معلق کیا ہو، مثلاً میں نے تجھ سے آئندہ روز میں نکاح کیا یا میں نے نکاح کیا اگر زید آئے ان صورتوں میں نکاح نہ ہوا۔
مسئلہ ۶۷: جب کہ صریح الفاظ (4)نکاح میں استعمال کيے جائیں تو عاقدین اور گواہوں کا ان کے معنی جاننا شرط نہیں۔ (5) (درمختار)
8 نکاح کی اضافت(6) کُل کی طرف ہو یا اُن اعضا کی طرف جن کو بول کرکُل مراد لیتے ہیں تو اگر یہ کہا، فلاں کے ہاتھ یاپاؤں یا نصف سے نکاح کیا صحیح نہ ہوا۔ (7) (عالمگیری)