ناچ باجے آتش بازی حرام ہیں۔ کون اس کی حرمت سے واقف نہیں مگر بعض لوگ ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی ،بلکہ بعض تو اتنے بے باک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ محرمات(1) نہ ہوں تو اُسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے ،دوسرے مال ضائع کرنا ہے ،تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے مجموعہ کے برابر اس پر گناہ کا بوجھ۔آتش بازی میں کبھی کپڑے جلتے کبھی کسی کے مکان یا چھپر میں آگ لگ جاتی ہے کوئی جل جاتا ہے۔
ناچ میں جن فواحش و بدکاریوں اور مخرب اخلاق(2) باتوں کا اجتماع ہے ان کے بیان کی حاجت نہیں، ایسی ہی مجلسوں سے اکثر نوجوان آوارہ ہو جاتے ہیں، دھن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں، بازاریوں سے تعلق اور گھر والی سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ کیسے بُرے بُرے نتائج رونما ہوتے ہیں اور اگر ان بیہودہ کاریوں سے کوئی محفوظ رہا تو اتنا ضرور ہوتا ہے کہ حیا و غیرت اٹھا کر طاق پر رکھ دیتا ہے۔ بعضوں کو یہاں تک سنا گیا ہے کہ خود بھی دیکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ جوان بیٹوں کو دکھاتے ہیں۔ ایسی بد تہذیبی کے مجمع میں باپ بیٹے کا ساتھ ہونا کہاں تک حیا و غیرت کا پتا دیتا ہے۔
شادی میں ناچ باجے کا ہونا بعض کے نزدیک اتنا ضروری امر ہے کہ نسبت (3) کے وقت طے کر لیتے ہیں کہ ناچ لانا ہوگا ورنہ ہم شادی نہ کریں گے۔ لڑکی والا یہ نہیں خیال کرتا کہ بیجا صرف نہ ہو تو اُسی کی اولاد کے کام آئے گا۔ ایک وقتی خوشی میں یہ سب کچھ کر لیا مگر یہ نہ سمجھا کہ لڑکی جہاں بیاہ کر گئی وہاں تو اب اُس کے بیٹھنے کا بھی ٹھکانا نہ رہا۔ ایک مکان تھا وہ بھی سود میں گیا اب تکلیف ہوئی تو میاں بی بی میں لڑائی ٹھنی اور اس کا سلسلہ دراز ہوا تو اچھی خاصی جنگ قائم ہوگئی، یہ شادی ہوئی یا اعلانِ جنگ۔ ہم نے مانا کہ یہ خوشی کا موقع ہے اور مدت کی آرزو کے بعد یہ دن دیکھنے نصیب ہوئے بے شک خوشی کرو مگر حد سے گزرنا اور حدودِ شرع سے باہر ہو جانا کسی عاقل کا کام نہیں۔
ولیمہ سنت ہے بنیت اتباعِ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ولیمہ کرو خویش و اقارب اور دوسرے مسلمانوں کو کھانا کھلاؤ۔ بالجملہ مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کرے، اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی مخالفت سے بچے اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔